stbori2 8

ہمارے پسندیدہ پھل اور سبزیاں، جو پہلے بالکل مختلف ہوتے تھے

اگلی مرتبہ جب آپ تربوز کے کسی ٹکڑے یا مکئی کے دانوں کا مزہ لیں تو یہ ضرور سوچ لیں کہ یہ جانے پہچانے پھل اور سبزیاں دیکھنے اور ذائقے میں ہمیشہ سے ایسے نہیں تھے۔

جی ہاں جینیاتی طور پر تدوین کردہ فوڈز پر حالیہ دنوں پر کافی سخت ردعمل سامنے آیا ہے مگر انسان ہمیشہ سے اپنی پسندیدہ خوراک میں جینیاتی تبدیلیاں لاتا رہا ہے۔

کیلوں سے لے کر بینگن اور متعدد دیگر پھل اور سبزیاں پہلے بہت زیادہ مختلف ہوتی تھی اور ان کی موجودہ شکل اس وقت بننا شروع ہوئی جب انسانوں نے ان غذاﺅں کو خود اگانا شروع کیا۔
جنگلی ٹماٹر

آپ نے ٹماٹر تو دیکھیں ہوں گے اور سلاد تو ان کے بغیر نامکمل لگتی ہے، مگر انسانوں کے ہاتھوں میں آنے سے پہلے ان کی شکل بالکل مختلف ہوتی تھی۔
موجودہ ٹماٹر

TOMATINA
TOMATINA

بلکہ اس پھل یا سبزی نے اپنا حجم، رنگ اور ذائقہ بھی بدل لیا ہے۔
جنگلی تربوز
tarbooz
tarbooz

17 ویں صدی کی اس پینٹنگ میں Giovanni Stanchi نے ایک تربوز کو پیش کیا ہے جو موجودہ عہد کے تربوز سے بالکل ہی مختلف ہے۔ یہ پینٹنگ 1645 سے 1672 کے درمیان بنائی گئی تھی اور اس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ تربوز کس طرح کی عجیب ساخت کے حامل ہوتھے تھے۔
موجودہ تربوز
tarbooz2
tarbooz2

وقت گزرنے کے ساتھ انسانوں نے تربوز کو اگانے کے لیے سلسلے میں کافی تجربات کیے اور اس کا اندرونی حصہ سرخ اور ماضی کے مقابلے میں بالکل مختلف ہوگیا۔ فرق آپ دونوں تصاویر کا موازنہ کرکے خود محسوس کرسکتے ہیں۔
جنگلی اسٹرابری

جنگلی اسٹرابری کا حجم کافی چھوٹا ہوتا تھا مگر یہ بہت لذیذ اور بہترین مہک والی ہوتی تھی، جو انسانی کاشت کے بعد کہیں گم ہوگئی۔
موجودہ اسٹرابری

اب اسٹرابری کا حجم تو بڑھ گیا ہے مگر اس کی مہک پہلے جیسی نہیں رہی۔
جنگلی کیلے

مانا جاتا ہے کہ پہلے کیلے کی کاشت کم از کم 7 ہزار سال پہلے ہوئی تھی اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا 10 ہزار سال پہلے شروع ہوا ہو، مگر جو کیلے پہلے ملتے تھے وہ آپ مندرجہ بالا تصویر میں دیکھ سکتے ہین جن میں بڑے اور سخت بیج ہوا کرتے تھے اور انہیں کھانا بھی اتنا آسان نہیں تھا۔
موجودہ کیلے

banna
banna

موجودہ عہد کے لذیذ کیلوں کی ساخت آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ماضی کے مقابلے میں کتنی مختلف اور دیکھنے میں بھی زیادہ خوبصورت ہے۔ ماضی کے مقابلے میں اس پھل میں اب پیج بہت چھوٹے ہوتے ہیں جبکہ یہ پھل اب ذائقے دار اور صحت کے لیے فائدہ مند اجزاء سے بھرپور ہوگیا ہے۔
جنگلی آلو
پہلے آلو جنوبی امریکا میں پائے جاتے تھے اور حیران کن طور پر ان کے رنگ، ساکت اور شکلیں مختلف ہوتھی تھیں۔
موجودہ آلو
اب یہ ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ کسی مختلف شکل میں ہمیں قبول بھی نہیں ہوں گے۔
جنگلی گاجر
ممکنہ طور پر اس کی کاشت 10 ویں صدی میں ایران اور ایشیاء کے مختلف حصوں میں شروع ہوئی تھی، ایسا بھی خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا اصل رنگ جامنی یا سفید ہوتا تھا جبکہ پتلی، ٹیڑھی جڑ ہوتی تھی، مگر وقت کے ساتھ اس کا جامنی رنگ ختم ہوگیا اور یہ زرد رنگ کی ہوگئی۔
موجودہ گاجریں
بشکریہ ڈان نیوز

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں