Spy Plants 209

امریکا کا جاسوس پودے تیار کرنے کا منصوبہ

واشنگٹن: امریکی ادارے ایسے پودوں پر کام کررہے ہیں جو دشمنوں کی جاسوسی اور ماحولیاتی خطرات مثلاً کیمیائی ہتھیاروں کا اندازہ لگانے کا کام کرسکیں گے۔
امریکا میں ’’ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی‘‘ (ڈارپا) کے ماہرین اس سے قبل حیرت انگیز دفاعی ٹیکنالوجی پرکام کرتے رہے ہیں اور اب جاسوس پودے ان کا نیا ہدف ہیں جو ماحول اور فضا میں جراثیم، تابکاری، کیمیائی و جراثیمی ہتھیاروں کے علاوہ دشمن کی سن گن بھی لے سکیں گے۔
ان پودوں کو فوجی مقاصد کےلیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً یہ کسی بارودی سرنگ کی نشاندہی کرسکتے ہیں جو پھٹنے سے رہ گئی ہو۔ ڈارپا نے اسے ’’ایڈوانسڈ پلانٹ ٹیکنالوجی‘‘ (اے پی ٹی) کا نام دیا ہے جس کے تحت پودوں میں قدرتی طور پر ایسی صلاحیت پیدا کی جائے گی تاکہ وہ آلودگی سے لے کر روشنی کی شدت کو بھی نوٹ کرسکیں گے اور یہ کام جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔
اس سے روایتی سینسر کی جگہ قدرتی انداز میں کام کرنے والے سینسر بنائے جاسکیں گے اور فوجیوں کی جانیں اور دیگر وسائل بچانے میں مدد مل سکے گی۔ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ پودے کئی مواقع پر اپنا ردِ عمل دے سکیں گے اور ان سے خود پودوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ اس ضمن میں 12 دسمبر 2017 سے ڈارپا تجاویز اور پروجیکٹس کی تفصیلات وصول کرے گی۔ پہلے گرین ہاؤس اور تجربہ گاہوں میں کام ہوگا اور اس کے بعد تجرباتی بنیادوں پر حقیقی کھیتوں اور قدرتی ماحول میں ان کی آزمائش کی جائے گی جس کی نگرانی امریکی محکمہ زراعت کرے گا۔
اس کے بعد ان جاسوس پودوں کی نگرانی سیٹلائٹ کے ذریعے کی جائے گی جو آج اتنے جدید ہوچکے ہیں کہ وہ پودوں کے درجہ حرارت تک پر بھی نظر رکھ سکتے ہیں۔ کامیابی کی صورت کے بعد یہ خاموش جاسوس اپنا کام کرسکیں گے۔ عام زندگی میں سورج مکھی کا پودا سورج کی جانب رخ کرتا ہے اور چھوئی موئی کا پودا ہلکے احساس کے ساتھ ہی بند ہوجاتا ہے۔ عین اسی کیفیت کو دیگر اشیا کی تصدیق کےلیے بھی استعمال کیا جاسکے گا اور یہی ڈارپا کا مقصد ہے۔
یہ پودے عوام کو اطراف میں موجود خطرناک بارودی سرنگوں سے بھی آگاہ کرسکیں گے۔
بشکریہ ایکسپریس نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں