baby 5

شیر خوار بچوں میں تیزابیت کی اصل وجہ ماں

نیویارک: اکثر شیر خوار بچے عموماً معدے کی تیزابیت یا جلن کا شکار ہوجاتے ہیں، ایسا دراصل نومولود بچے کے غیر پختہ نظامِ ہاضمہ کی نئی غذاؤں سے نامانوسیت کے سبب ہوتا ہے، اسی لیے ڈاکٹرز نومولود بچوں کو صرف ماں کا دودھ ہی تجویز کرتے ہیں۔
بچوں کو ابتدائی دو برس میں صرف اور صرف ماں کا دودھ ہی پلانا چاہیے کیونکہ یہ بچے کی صحت اور پرورش کے لیے بنیادی اور کامل غذا ہے تاہم دوسرے سال میں بعض مائیں بچوں کو ہلکی پھلکی دیگر غذائیں بھی کھلاتی ہیں۔
ماں کا دودھ بچے کو غذا دینے کا واحد ذریعہ ہے اس لیے ماں پر دہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی صحت کے ساتھ ساتھ بچے کی صحت کا بھی خیال رکھے اور ایسی خوراک استعمال کرے جس سے ماں کے دودھ میں مضر اجزا شامل نہ ہوجائیں یا دور رس منفی اثرات مرتب نہ ہوں کیونکہ بچے کی صحت کا براہ راست تعلق ماں کے دودھ سے ہے۔
شیر خوار بچوں کی ماؤں کے لیے یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ وہ خودکو تندرست رکھنے کے ساتھ ساتھ بچے کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کھانے پینے کی کون کون سی اشیا کا استعمال کریں اور کون سی غذا سے اجتناب برتیں۔
پیٹ کے درد، بدہضمی، معدے میں جلن اور تیزابیت کو سائنسی اصطلاح میں ایسڈ رفلیکس یا گیسٹرو سوفاگیل رفلیکس کہتے ہیں۔ ایسڈ رفلیکس معدے کی ترشی کو بھی کہتے ہیں جو حلق تک آجاتی ہے، شیرخوار بچوں میں ایسڈ رفلیکس کہ بڑی وجہ ماں کے کھانے کی عادات پر منحصر ہوتی ہے ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ماں بے خیالی میں یا انجانے میں وہ کھانے استعمال کرتی ہے جو بچوں میں تیزابیت کا سبب بنتے ہیں۔
شیرخوار بچوں میں تیزابیت کی علامات
الٹیاں:
اگر بچہ الٹیاں یا منہ بھر کے قے کررہا ہے تو یہ ایسڈ رفلیکس کی علامت ہے، یہ الٹیاں صحت مند نومولود کے برعکس مختلف ہوتی ہیں اور یہ قسط وار چلتی ہیں۔
کھانسی:
خراٹے کے ساتھ سانس لینا یا کھانسی کا مسلسل ہونا بھی ایسڈ رفلیکس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
کھانے میں دشواری:
اگر بچہ ایسڈ رفیلکس کا شکار ہے تو وہ کھانے پینے سے اجتناب کرتا ہے یا پھر کھانے میں دشواری ظاہر کرتا ہے۔
درد:
ایسڈ رفلیکس بچوں میں درد کا باعث بھی بنتا ہے جس سے عمومی طور پر پیٹ میں درد، گیس یا مروڑ ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ ماں کو چاہیے کہ وہ بچے کو دودھ پلانے سے پہلے اور بعد میں اس امر کا جائزہ لے کہ بچے کو درد ہونے کی وجہ کہیں ماں کا دودھ تو نہیں۔
الٹنا/پیٹ کے بل لیٹنا:
اگر آپ محسوس کریں کہ بچہ بہت زیادہ الٹا ہو رہا ہے یا بار بار پیٹ کے بل لیٹنے کو ترجیح دے رہا ہے تو یہ بھی ایسڈ رفلیکس کی ایک علامت ہے۔
شیرخوار بچوں کو تیزابیت کا شکار کرنے والی غذائیں
یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ کس قسم کے کھانے بچے میں ایسڈ رفلیکس کا سبب بنتے ہیں جن سےلازمی پرہیز کرنا چاہیے، ایک عام اصول ہے کہ وہ کھانے جو دودھ پلانے والی ماؤں کو تیزابیت کا شکار کریں ان کا استعمال فوری روک دیں۔
کیفین:
ہم جانتے ہیں کہ کیفین چائے اور خصوصاً کافی کا اہم جز ہے، شیرخوار بچوں میں کیفین بچوں کے معدے کے اہم حصے ایسوفیگس کے خاص پٹھوں کو پرسکون کرتی ہے۔ اس عمل سے بچوں میں بننے والا ایسڈ ریفلکس اپنا اثر دکھاتا ہے اور وہ تیزابیت کے شکار ہونے لگتے ہیں۔ سافٹ ڈرنکس اور چاکلیٹ میں بھی کیفین پائی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ چائے، کافی، سوڈا، انرجی ڈرنکس اور چاکلیٹ میں کیفین کا استعمال کیا جاتا ہے۔
مرغن اور تیز مرچ والے کھانے:
تیز مرچ والے یا مرغن کھانے بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں میں بھی تیزابیت کا باعث بنتے ہیں، دراصل مرچیں پیٹ کی دیکھ بھال کرنے اور معدے کی انتڑیوں کی حفاظت پر مامور جھلیوں کو پریشان کرتی ہیں، بچوں کا نظام ہاضمہ اس قسم کی مرچوں سے بچنے اور لڑنے سے لیس نہیں ہوتا جس کا نتیجہ ایسڈ رفلیکس کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
رسیلے پھل:
رسیلے ترش ذائقے والے پھل جیسے لیموں یا مالٹا نظام ہاضمہ کو متاثر کرتے ہیں اگر دودھ پلانے والی ماں لیموں یا مالٹے کا کثرت سے استعمال کرتی ہے تو شیرخوار بچہ ایسڈ رفلیکس کا شکار ہوسکتا ہے۔
کاربونیٹڈ ڈرنکس:
کاربونیٹڈ ڈرنکس گیس کے ذرات پر مشتمل ہوتی ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہے، یہ بھی پیٹ کی جھلیوں کو متاثر کرکے ایسڈ رفلیکس کی بڑی وجہ بنتی ہے۔
بھنی ہوئی اشیا:
بھنی ہوئی اشیا صحت کے لیے نقصان دہ اورغیر ضروری موٹاپے کا باعث بنتی ہیں، یہ اشیا بچے کے ناپختہ نظام ہاضمہ میں شامل ہوکر بدہضمی اور ایسڈ رفلیکس کی وجہ بنتی ہیں۔
مصنوعی جوس:
مصنوعی پھلوں کے جوسز کی مارکیٹ میں بہتات ہے جو دراصل کیمیکلز کی ملاوٹ سے تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ کیمیکلز بچے بآسانی ہضم نہیں کرپاتے جو بدہضمی کا سبب بنتے ہیں اور یہ بدہضمی شیر خوار بچوں میں ایسڈ رفلیکس میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
سگریٹ نوشی:
سگریٹ نوشی کی عادت بچے کی نشوونما کے دوران اس پر بہت سے مضر اثرات مرتب کرتی ہے، سگریٹ نوشی بچے کے نظام ہاضمہ کو متاثر کرکے اسے ایسڈ رفلیکس میں مبتلا کردیتی ہے اس لیے سگریٹ نوشی سے حد درجے ممکن دور رہا جائے یا کم از کم دوران حمل یا دودھ پلانے کے دوارن سگریٹ نوشی سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ بند گوبی، شملہ مرچ، لال اور کالا لوبیا بھی دودھ پلانے والی ماؤں کے بچوں کو تیزابیت میں مبتلا کرنے والی غذائیں ہیں۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں