16

انٹرنیٹ پر ڈیجیٹل بلیاں ہزاروں ڈالر میں فروخت ہورہی ہیں

لندن: آپ نے ڈیجیٹل کرنسی یا کرپٹو کرنسی کا نام تو سنا ہوگا جو انٹرنیٹ کرنسی ہے اور اس کا رحجان تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ لیکن اب خصوصاً ایشیا میں ’’کرپٹو کٹیز‘‘ کے نام سے مجازی (ورچوئل) بلیاں خریدنے اور ان سے گیم کھیلنے کا رحجان فروغ پارہا ہے۔
اندازاً اب تک 6 ہزار افراد الیکٹرونک بلیاں خرید چکے ہیں اور گزشتہ ہفتے تک 70 لاکھ ڈالر یعنی 70 کروڑ روپے کی رقم ان پر خرچ کی گئی تھی جس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
کرپٹو بلیاں ایکزیوم زین نامی کمپنی نے بنائی ہے جو ایتھیریئم پلیٹ فارم پر چلتی ہیں جو بٹ کوئن کے بعد دوسری مشہور ترین کرپٹوکرنسی کا پلیٹ فارم بھی ہے۔ تاہم اس سے کچھ مسائل پیدا ہورہے ہیں مثلاً ڈیجیٹل بلیوں سے نیٹ ورک پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب کرپٹو کٹیز سے پلیٹ فارم پر ٹریفک میں اضافہ ہورہا ہے جو اب تک 11 فیصد سے زائد ہوچکا ہے۔ تاہم کارٹون جیسی ان بلیوں کی قیمت ہوش ربا ہے اور حال ہی میں ایک ڈیجیٹل بلی ایک لاکھ سترہ ہزار ڈالر میں فروخت ہوئی ہے جو ایک کروڑ روپے سے زائد رقم بنتی ہے۔
کھلاڑی اریتھریئم ٹوکن ( ایتھر نامی ڈجیٹل سکہ یا کوائن) سے بلیوں کی قیمت ادا کرسکتے ہیں۔ ایک بلی خرید کر آپ اس کی نسل بڑھاسکتے ہیں اور اس کی افزائش کرکے فروخت کرسکتے ہیں۔ ڈیجیٹل بلی کی قیمت کا انحصار اس کی قسم اور نسل (جنریشن) پر ہوتا ہے۔ ان میں سے جنریشن ون وہ نسل ہے جو ایکزیوم ون نے بنائی ہے۔ ہر بلی کی شناخت ایتھیریئم بلاک چین پر ریکارڈ ہوتی رہتی ہے۔
واضح رہے کہ بلاک چین وہ ٹیکنالوجی ہے جس پر کرپٹو کرنسیز کا انحصار ہوتا ہے اور اسی عمل کے ذریعے ڈی سینٹرالائیزڈ ڈیجیٹل کرنسی کی لین دین ہوتی ہے۔
یہاں ایک ڈیجیٹل بلی کی قیمت 20 ڈالر سے لے کر 50 ہزار ڈالر تک ہوسکتی ہے اور بعض کھلاڑی ان سے حیرت انگیز منافع بنارہے ہیں۔ بلی نمبر 23 کو پہلے 4 ہزار ڈالر میں خریدا گیا تھا اور دو دن بعد سے 32 ہزار ڈالر میں بیچا گیا اور اگلے روز اس کی قیمت 63 ہزار ڈالر تک جاپہنچی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں