16

ٹانگوں میں خون کی بند رگوں کو کھولنے والا جوتا

لندن: پلاسٹک سے بنا ارتعاش پیدا کرنے والا جوتا دنیا بھر کے کروڑوں مریضوں کےلیے امید کی نئی کرن بن سکتا ہے کیونکہ یہ ٹانگ کے اندر تھرتھراہٹ پیدا کرکے خون کا بہاؤ تیز کرتا ہے اور بند رگیں کھولنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق پلاسٹک کا یہ جوتا ارتعاش پیدا کرکے پیر کے نچلے حصے میں خون کے بہاؤ میں 40 فیصد تک اضافہ کرتا ہے۔ اس کامیابی کے بعد اب اسے برطانوی شہر لنکاشائر کے رائل اولڈم ہسپتال میں انسانوں پر آزمایا جارہا ہے۔
اس انقلابی جوتے کا نام ’فلواوکس‘ رکھا گیا ہے جس سے ٹانگوں میں ارتعاش کے ذریعے خون کا بہاؤ تیز کیا جاتا ہے۔ عمر رسیدہ افراد میں وقت کے ساتھ ساتھ ٹانگوں میں خون کا دباؤ کم ہونا شروع ہوجاتا ہے جسے پیریفرل آرٹیریئل ڈیزیز (پی اے ڈی) کہا جاتا ہے۔ جس طرح دل کی رگوں میں چکنائی جمع ہوتی ہے، عین اسی طرح ٹانگوں کی رگوں میں چربی جمع ہوتی ہے اور ابتدا میں چلنے میں تکلیف، خون کا کم بہاؤ اور ٹانگوں کے سن ہونے کی کیفیات ظاہر ہوتی ہیں۔
یہ مرض عمر رسیدہ افراد کو زیادہ متاثر کرتا ہے اور اس کےلیے دوا، ورزش، اینجیوپلاسٹی اور بائی پاس سرجری بھی کی جاتی ہے۔ ایسے مریضوں کا خون ہموار رکھنے کےلیے انہیں ایسپرین کھلائی جاتی ہے۔
تاہم فلواوکس اس کا بہت آسان حل ہے جو ایک بہت بڑے جوتے کی طرح ہے۔ جوتے سے پلاسٹک کے دو پائپ مشین میں ڈالے جاتے ہیں جو ہوا کو جوتے کےاندر سے کھینچتے اور دوبارہ بھیجتے ہیں۔ ہوا کے دباؤ کی تبدیلی سے خون میں آکسیجن شامل ہوتی ہے اور بند شریانوں تک جاتی ہے۔پنڈلی سے پاؤں کے انگوٹھے تک مریض اپنے پاؤں کو ہوا میں تیرتا محسوس کرتا ہے، اس دوران دو گھنٹے تک مریض کو بیٹھنا پڑتا ہے اور جوتے کے اندر ہوا کا دباؤ چند سیکنڈ بعد تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح مریض کے پیروں کی رگوں میں ہلکی تھرتھراہٹ پیدا ہوتی ہے اور خون کا بہاؤ بڑھتا ہے۔ ٹانگوں اور پیروں کے ایک ایک حصے میں آکسیجن پہنچنا شروع ہوجاتی ہے۔گزشتہ برس ناروے میں اسے 23 صحتمند رضاکاروں پر آزمایا گیا تھا جس سے معلوم ہوا کہ فلواوکس جوتا خون کی روانی 44 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ اب اسے مزید 15 مریضوں پر آزمایا جارہا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں