
آپریشن غضب للحق کے تحت پاکستان کی جانب سے افغانستان کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں جس میں اب تک 352 افغان فوجی اور طالبان ہلاک ہوگئے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سماجی رابطے کی سائٹ پر ہفتے کی رات 9 بجے تک کے اعداد و شمار اور نئی پیشرفت شیئر کی۔
انہوں نے بتایا کہ جنگ میں افغانستان کا بھاری جانی مالی نقصان ہوا، دو روز میں افغانستان کے352 فوجی ہلاک جبکہ 535 زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے افغانستان کی 130 چیک پوسٹیں تباہ جبکہ 26 پوسٹوں پر مکمل کنٹرول حاصل کیا ہوا ہے۔ وزیر اطلاعات کے مطابق جوابی کارروائیوں میں 171 ٹینک، فوجی گاڑیاں تباہ ہوئیں جبکہ افغانستان میں 41 مقامات پر کامیابی کے ساتھ فضائی حملے کیے گئے ہیں۔
اس سے قبل گزشتہ وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی جانب سے 28 فروری صبح 9 بجے جاری تازہ اعداد و شمار جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق پاک فضائیہ نے افغانستان بھر میں 37 مقامات کو فضائی کارروائی میں مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا جس میں افغان طالبان رجیم کے 331 کارندے ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
انہوں نے بتایا تھا کہ افغان طالبان کی 104 چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ جبکہ 22 چیک پوسٹوں پر پاک فوج نے مکمل کنٹرول حاصل کرلیا، اسی کے ساتھ 163 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ کردی گئیں۔ آپریشن غضب للحق اپنے اہداف کی تکمیل تک جاری رہے گا۔
گزشتہ روز کی کارروائیاں
ننگرہار میں افغان فوج کا بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز تباہ
پاک فضائیہ نے افغانستان کے صوبے ننگرہار کی مہمند دھارا بیس میں 2 اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، ننگرہار میں افغان فوج کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بناکر تباہ کردیا گیا۔پاک فضائیہ نے قندھار میں افغان فوج کا ہیڈ کوارٹرز تباہ کردیا
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ نے قندھار میں فضائی حملے کے دوران افغان فوج کے ہیڈ کوارٹرز کو موثر انداز میں نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
افغان طالبان کی جارحیت کیخلاف پاک فوج کی بھرپور اور طاقتور جوابی کارروائیاں جاری ہیں، پاک افواج کامیابی سے افغان طالبان کی عسکری تنصیبات کو تباہ کر رہی ہیں۔
قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں دراندازی کی کوشش ناکام، متعدد دہشتگرد جہنم واصل
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تازہ ترین کارروائیوں میں پاک افغان سرحد پر غلام خان سیکٹر میں افغان پوسٹ کو تباہ کردیا گیا، اعظم وارسک سیکٹرمیں بھی افغان طالبان کی شاگا پوسٹ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں تشکیل کی دراندازی کو ناکام بنادیا گیا، متعدد دہشتگرد جہنم واصل ہوگئے۔ پاک فوج نے قلعہ سیف اللہ سیکٹرمیں افغانستان کی رحیم تھانہ پوسٹ کومکمل تباہ کردیا۔ پاک فوج نے قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں افغان طالبان کی اعلیٰ جرگہ تھانہ پوسٹ کو مکمل تباہ کردیا۔
جمعرات کی شب اور جمعہ کو ہونے والے واقعات:
افغان طالبان کی جانب سے جمعرات کی شب شروع کی گئی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا تھا۔ افواج پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا بھرپور اور موثر انداز میں منہ توڑ جواب دیا گیا۔
پاک فضائیہ نے افغان صوبے لغمان، ننگر ہار میں کارروائیاں کر کے ہیڈکوارٹرز کو تباہ کیا جبکہ سرحدی علاقوں میں افغان چیک پوسٹوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔پاک فضائیہ کی جوابی کارروائی میں صوبہ لغمان میں اسلحہ ڈپو،اے بی ایف بٹالین ہیڈکوارٹر اور ننگرہار بریگیڈ مکمل طورپر تباہ کردیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے مہمند سیکٹر کے قریب افغان چیک پوسٹ کو مکمل طور پر تباہ کردیا۔ پاک فوج نے افغانستان میں ایمونیشن ڈپو اور پٹرولیم (پی او ایل) کے بڑے ذخائر بھی تباہ کر دیے۔
سیکیورٹی فورسز نے سرحد اور افغانستان کے اندر داخل ہوکر بھرپور کارروائیاں کیں جبکہ پاک فضائیہ نے قندھار، کابل، ننگرہار میں فضائیہ کارروائیاں کر کے افغان طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔
آپریشن ضرب للحق میں پاک فضائیہ کے دشمن پر وار
گزشہ روز ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان ایئرفورس فضائی حملوں میں کابل میں دو بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کیے گئے، جبکہ کارروائیوں کے دوران دشمن کو بھاری نقصان پہنچا۔سیکیورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ قندھار میں فضائی حملے کے دوران ایک کور ہیڈ کوارٹر اور ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا، جبکہ ایمونیشن ڈیپو اور لاجسٹک بیس بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
افغان صوبے ننگرہار میں پاک فضائیہ کے طیاروں نے ایک بڑا ایمونیشن ڈپو تباہ کر دیا۔مزید بتایا گیا تھا کہ پکتیکا میں ہونے والی کارروائی میں ایک کور ہیڈ کوارٹر کو بھی مؤثر فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
اس کے علاوہ پاکستان نے جنوبی وزیرستان کے مقابل افغانستان کے پکتیا کے علاقے میں پانچ افغان پوسٹوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا جھنڈا لہرایا۔
قبضے میں لی جانے والی چیک پوسٹوں میں دو شوال کے مقابل، دو انگور اڈہ کے مقابل اور ایک زرملان کے مقابل میں ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے مؤثر کارروائی کے دوران انگور اڈہ کا افغانی ٹرمینل بھی تباہ کر دیا۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے بھرپور اور طاقتور جواب میں افغان طالبان فورسز کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے پاک افغان سرحد پر خوست میں افغان طالبان کی متعدد اہم پوسٹس کو مکمل تباہ کر دیا، پاکستان کی فیصلہ کن کارروائی کی بعد افغان طالبان فوج نے متعدد بار پوسٹوں پر سفید جھنڈا بھی لہرایا۔
سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان فورسز کو آرٹلری اور کوارڈ کاپٹر کے ذریعے مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔
تباہ ہوئی چند چوکیوں کے نامسیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی کارروائیوں میں افغان طالبان کی متعدد پوسٹوں اور کیمپس کو شدید نقصان پہنچا، افغان طالبان کے شپولا کیمپ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، خیبر پوسٹ ، قومی سر کمپلیکس اور خاور پوسٹ کو شدید نقصان پہنچا، اسی طرح بزدل افغان طالبان کے اہلکار ٹوپسر پوسٹ چھوڑ کر فرار ہوگئے جب کہ پاک فوج نے داؤد پوسٹ کو بھی مکمل تباہ کردیا۔
ڈرونز حملے
افغان طالبان کے حمایت یافتہ فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کے اینٹی ڈرون سسٹمز نے تمام ڈرونز کو گرا دیا، ان واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ان واقعات نے ایک بار پھر افغان طالبان رجیم اور پاکستان میں دہشت گردی کے درمیان گھناؤنے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا۔