
یورپی ملک پولینڈ نے اپنا جدید پیٹریاٹ میزائل سسٹم مشرقِ وسطیٰ بھیجنے سے صاف انکار کر دیا ہے، جس کے بعدغیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولینڈ کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی نظام کو کسی دوسرے خطے میں منتقل نہیں کرے گا۔
اس حوالے سے پولینڈ کے وزیرِ دفاع نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ پیٹریاٹ بیٹریاں اور ان سے متعلق اسلحہ اس وقت ملک کی فضائی حدود کے تحفظ اور نیٹو کے مشرقی محاذ کے دفاع کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں ان دفاعی نظاموں کو ملک سے باہر بھیجنا قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، اس لیے انہیں پولینڈ کے اندر ہی رکھا جائے گا۔رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ان خبروں کے بعد سامنے آیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں ان سسٹمز کو مشرقِ وسطیٰ میں استعمال کرنا چاہتا ہے۔ تاہم پولینڈ کے اس انکار کے بعد ایسی کسی بھی ممکنہ تعیناتی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق پولینڈ کا یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یورپی ممالک اپنی دفاعی ضروریات کو ترجیح دے رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر سیکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں۔
خطے کی سیکیورٹی صورتحال سے متعلق نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
