کالم و مضامین

منشیات نوجوان نسل کے لئے زہر قاتل اور موت کے سوداگروں کا نیٹ ورک

Qazi Muhammad Shoaib Column

اقوام متحدہ کے زیر اہتمام پاکستان سمیت تمام رکن ممالک میں ہر سال منشیات کے استعمال کے خطرات کے حوالے سے منشیات کا عا لمی دن منایا جاتا ہے۔ عوام کو منشیات کے استعمال سے روکنے کے لیے ملک کے طول و عرض میں سرکاری سطع پر ریلیاں، ورکشاپ ، سیمنار، جلسے جلوس منقعد کیے جاتے ہیں۔

مگر نوجوان نسل خاص طور پر کالجوں، یونیورسٹیوں، ہاسٹلوں کے طلباءو طالبات ، جیلوں کے قیدیوں میں آئیس، ہیروئن، کوکین، چرس، افیون، شراب، مارفین کے ٹیکے سگریٹ نوشی، شیشہ نوشی کے استعمال میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو تا جار ہا ہے۔

جس پر والدین کے ساتھ ساتھ تمام حکومتی ادارے بری طرح ناکام نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان میں منشیات کے سمگلروں کا نیٹ ورک بہت منظم طریقے سے سر گرم عمل ہے۔ جن کو بااثر حلقوں کی پشت پنائی حاصل ہے۔ جن کے سامنے حکومتیں بے بس ہیں۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے قائم ہوتے ہی افغانستان میں پوست کی کاشت کے بعد سرحدی علاقوں سے منشیات کی سمگلنگ میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

جن کو پاکستان سمیت یورپ کی ڈگز مارکیٹ تک رسائی حاصل ہے۔ پاکستان نارکاٹکس کنٹرول پولیس ، ایکسائز پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے منشیات کی بھاری کھیپ قبضے میں لے کر قانونی کاروائی کرتے رہتے ہیں۔ سزاﺅں کے قانون میں سخت ترامیم کی گئی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق اوپائیڈ یا افیون جیسی مسکن ادویات منشیات کے زمرے میں آتی ہیں۔ ان کا عام استعمال درد کش ادویات کے طور پر لیا جاتا ہے۔ افیون سے حاصل کردہ سکون بخش دواء کوڈین سے لیکر ہیروئن جیسی منشیات بھی شامل ہیں۔ یہ ادویات دماغ کے سلیز پر اثر انداز ہو کر جسم میں درد کے احساس کو روک دیتی ہیں ساتھ ساتھ خوشی اور سرور میں اضافہ کرتی ہیں۔

خواتین میں اس کا استعمال بہت زیادہ ہور ہا ہے۔ ان میں مارفین، ٹریماڈول، میتھا ڈون، ڈایا مارفین، فینٹال، الفینٹال بھی شامل ہیں۔ جو ڈاکٹر کے نسخے پر فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ ادویات بہت شدید درد کی صورت میں استعمال کی جاتی ہیں۔ جو سرجری، کینسر اور زندگی کے آخری علاج میں استعمال کی جاتی ہیں۔

پنجاب ہوم دیپارٹمنٹ کے پرونشل انٹیلیجنس یونٹ کی رپورٹ کے مطابق اٹک جیل منشیات فروشی کا گڑھ بن گئی ہے۔ اٹک جیل میں نشے کے عادی قیدیوں کو ڈرگز مافیا کی سر پرستی میں منشیات بہت آسانی سے میسر ہوتی ہے۔ بااثر ڈرگز مافیا نے جیل انتظامیہ کے تعاون سے اٹک جیل میں پنجے گھاڑ رکھے ہیں۔

اٹک کے مختلف تھانوں سے منشیات کے عادی ملزمان کو منشیات کی بھاری مقدار کی برآمدگی کے الزمات میں اٹک جیل منتقل کیا جاتا ہے۔ جو ڈرگز مافیا کی آشیر باد سے جیل کے اندر قیدیوں کو شراب، آئیس، ہیروئن، کوکین، چرس، افیون سپلائی کرتے ہیں۔

قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی نے سٹینڈنگ کمیٹی قومی اسمبلی برائے نارکاٹکس کنٹرول کے اجلاس کے دوران انکشاف کیا کہ یونیورسٹی کے باہر قائم کھوکھوں کے مالکان منشیات فروشی کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہیں جو طلبا و طالبات کو سر عام آئیس، ہیرﺅین، کوکین، چرس، افیون، مارفین کے ٹیکے فراہم کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں پولیس کے اعلی حکام کو بھی آگاہ کیا گیا ۔ لیکن منشیات کے استعمال میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

نشے کے عادی ہزاروں افراد کے اپنے اپنے مسائل ہیں ان میں پڑھے لکھے اور معزز خاندن سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو اکثر مایوسی اور فرسٹریشن کا شکار ہوتے ہیں ان کی بڑی تعداد پلوں کے نیچے، فٹ پاتھ، گندگی کے ڈھیروں اور ریل کی پٹریوں کے ساتھ پڑئے ہوتے ہیں۔ پشاور میں ہیروئین، آیئس، چرس ، افیون کا نشہ بہت آسانی سے اور سستا مل جاتا ہے اس لئے ملک کے دور دارز علاقوں سے نشے کے عادی افراد پشاور پہنچ جاتے ہیں۔

کمشنر پشاور ریاض مسعود کے مطابق پشاور میں نشے کے عادی افراد کے علاج و بحالی کے لیے کئیر سنٹر قائم کیا گیا ہے۔ جہاں پر ماہر ین نفسیات اور دیگر ڈاکٹروں کی زیر نگرانی نشے کے عادی افراد کا علاج کیا جاتا ہے۔ مختلف سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے ایک مربوط پروگرام تر تیب دیا گیا ہے۔

سحر انگیز شخصیت پر لکھی مسحور کن کتاب

نشے کے عادی افراد کے مکمل علاج و بحالی کے بعد انھوں کاروبار کے ساتھ ساتھ مختلف ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ جاکر با عزت روز گار بھی کما سکیں۔

کیئر ہسپتال پشاور میں لاہور، رالپنڈی، اٹک، اسلام آباد، کراچی، اور ملک کے دیگر علاقوں سے آئے ہوئے نشے کے عادی افراد کو رکھا جاتا ہے۔ جہاں ماہر ڈاکٹر ابتدائی 15 روز ان کا طبی علاج کرتے ہیں۔ ان کے مختلف جسمانی اور ذہنی مسائل کا تفصیلی جائزہ لیکر کونسلنگ اور تھراپی بھی کی جاتی ہے۔

منشیات کی سمگلنگ روکنے ، پاکستان کی نوجوان نسل میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے اور انھیں مفید شہری بنانے کے لئے پار لیمنٹ میں فوری طور پر ٹھوس قانون سازی کی جائے۔

ملک بھر کی تمام جیلوں، سرکاری ہسپتالوں میں نشے کے عادی افراد کے علاج و بحالی مراکز اور خصوصی وارڈ ز قائم کئے جائیں ۔ مکمل علاج کے بعد ان فراد کو بری صحبت سے بچانے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے زیر نگرانی رکھا جائے تاکہ دوبارہ نشے کی جانب راغب نہ ہو سکیں۔

Qazi Muhammad Shoaib Column | Addiction of drugs in Pakistan | Females Drug Addicted | 24 News HD

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button