کالم و مضامین

لا قانونیت یا معاشرتی رویہ؟؟؟

تحریر: عطیہ ربانی، بیلجیئم

Attiya Rubani logo

الکبیر ٹاؤن سے لیک سٹی مال جاتے ہوئے سامنے سے ایک کار نے یو ٹرن لیا اور اگلی کار کے پیچھے کھڑی ہوگئی حیرت انگیز طور پر گرین بیلٹ جہاں پر لوہے کے بیرئیر بھی لگے ہوئے تھے۔

گرین بیلٹ بس اتنی ٹوٹی ہوئی تھی یا توڑی گئی تھی ایک موٹر سائیکل گزر سکے اور اتنا ہی بیرئیر بھی ٹوٹا ہوا تھا۔ جو کار یو ٹرن لے کر اپنے سے اگلی سواریوں کے آگے رکی ہی تھی کہ اچانک اس ٹوٹی ہوئی گرین بیلٹ سے تیز رفتار موٹر سائیکل نمودار ہوئی اور گاڑی کے پچھلے شیشے سے بری طرح ٹکرا گئی۔

گاڑی کے پچھلے دروازے پر موٹر سائیکل کا پورا ہینڈل ڈینٹ کی شکل میں جیسے چھپ گیا ہو اور گاڑی کا شیشہ چکنا چور ہوگیا۔ گاڑی میں فیملی بیٹھی تھی جس میں چھ سے آٹھ یا نو سال کے بچے بھی بیٹھے تھے۔

جن لوگوں کو اپنے اپنے کاموں کی جلدی تھی وہ تو نکل گئے مگر جنہیں کوئی کام نہ تھا ان کا شور و غل تھا کہ گاڑی والے جانے خود کو کیا سمجھتے ہیں۔ ہم ہکا بکا یہ سب دیکھ رہے تھے۔

حالانکہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص کا رنگ بھی اڑا ہوا تھا۔ جس کی کوئی غلطی نہ تھی بلکہ اس کا بظاہر  بہت ہی نقصان نظر آرہا تھا۔ اس کے باوجود لوگوں کی نظر میں غلط وہی تھا جس کی گاڑی تھی۔

اس شخص کی مدد کی خاطر  گاڑی والے کے ساتھ مل کر موٹر سائیکل سوار کو فوری ہسپتال پہنچایا گیا۔ چونکہ وہ بہت زخمی تھا تو اس کے ٹیسٹ وغیرہ کیے گئے جن کا خرچ کار والے نے ادا کیا۔

اس کے بعد بتایا گیا کہ جنرل ہسپتال لے جانا پڑے گا کیونکہ سر پر چوٹ بہت ذیادہ لگی ہے تو سی ٹی سکین ضروری ہے۔

 خیر تمام ٹیسٹ جو لکھ کر دئیے گئے تھے وہ تمام کروائے گئے۔ اتنی دیر میں معلوم ہوا کہ گارڈ نے 115 پر کال کیا جس کا مطلب یہ بتایا گیا کہ اگر پولیس آگئی تو گاڑی والے کی تو خیر نہیں۔ گاڑی لے جائیں گے اور پھر کیسے کیسے کیسز بنیں گے۔
ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ گاڑی والے کا اس سب میں کیا قصور تھا۔ کھڑی گاڑی کو کسی نے جلد بازی میں ٹکر مار دی اور اس کا کتنا نقصان ہوا اس بات کی کسی کو پرواہ نہیں تھی۔

بے چارہ کار والا دم سادھے بیٹھا تھا کہ کہیں موٹر سائیکل سوار کو کچھ ہو نہ جائے۔ جب تمام رپورٹیں بالکل صحیح آئیں تو بے چارے کی سانس میں سانس آئی۔

جب موٹر سائیکل سوار کو یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ بھائی آپ کی جلد بازی کی وجہ سے آپ خود بھی کتنی تکلیف میں ہیں۔ حقیقتا وہ بے چارہ بہت ذخمی ہوا تھا۔

ابھی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ ہسپتال کے سٹاف نے بری طرح ڈانٹ دیا کہ آپ بات ہی کیوں کر رہے ہیں۔ چونکہ موٹر سائیکل سوار غریب آدمی تھا تو اس کی مدد کرنا بھی فرض تھا۔ نہیں تو بقول ہسپتال کے سٹاف کے کہیں پولیس کے سامنے اس نے بیان دے دیا تو یہ تمام واقعہ دیکھ کر حیرانگی انتہا کو پہنچ گئی۔

بتایا گیا کہ آپ کو نہیں پتہ کہ یہ پاکستان ہے یہاں قصور کسی کا بھی ہو پکڑ ہمیشہ گاڑی والے کی ہی ہوتی ہے۔ پوچھا کہ یہ کوئی قانون ہے؟ جواب ملا کہ یہاں ایسا ہی قانون ہے۔

یہ تو اللہ کا شکر تھا کہ رش بالکل نہیں تھا ورنہ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو بس جذباتی ہو کر گاڑی والے کو تشدد کا نشانہ بھی بنا دیتے ہیں۔ بعض اوقات قانون کے رکھوالے آس پاس ہوں تو انہیں بھی معافی تلافی کے طور پر جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔

ظاہر ہے کہ یہ قانون تو نہیں ہے بلکہ معاشرتی رویہ ہے۔ ایسا نہیں کہ ملک میں قانون کی دھجیاں اڑائی نہیں جاتیں۔ مگر ایسا کرنے والی اکثریت انہی لوگوں کی ہے جن کی پہنچ دور تک ہے یا وہ خود قانون بنانے والے، نافذ کروانے والے یا عوام کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کی حفاظت کی ذمہ داری جن کے ہاتھ میں ہے وہ کس حد تک عام لوگوں کی پریشانیوں کا مداوا کر رہے ہیں۔

قوانین بنانے والے کس طبقے کے لیئے قانون بناتے ہیں۔ ان پر عمل کرنے والا ایک عام مڈل کلاس آدمی ہے جو بنیادی ضروریات بمشکل پوری کر پاتا ہے، بچوں کی تعلیم کے خرچ سے کمر جھکی جاتی ہے اور جب زندگی  بھر کی کمائی سے گاڑی خرید ہی لیتا ہے اور کوئی جلد باز سائیکل سوار سامنے آجائے یا موٹر سائیکل سوار ٹکرا جائے تو بلا وجہ کے خرچ سے بے چارے مڈل کلاس آدمی کی جھکی ہوئی کمر بالکل ہی ٹوٹ ہی جاتی ہے۔

اس پر بھی ایک عام متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا شکر گزار ہوتا ہے کہ پولیس تک بات نہیں گئی ورنہ جانے کیسی مشکل سے گزرنا پڑتا۔

بچپن میں والدین سے سنتے آئے کہ ہمارے وقتوں میں پاکستان بہت بہتر تھا۔ یہی بات بات آج اپنی اولاد سے کہی جاتی ہے۔ معاشرتی رویہ بگاڑ کا شکار اسی قدر ہو چکا ہے کہ اب برائی، برائی نہیں لگتی۔ مغربی معاشرہ اخلاقی طور ہر جیسا بھی ہے لیکن ترقی و فلاح میں اسلامی معاشرے سے کیوں بہتر ہے۔

انہوں نے اسلام سے سیکھا کہ انصاف ہر کس و ناکس کے لیے برابر ہے۔ افسوس اسلامی جمہوریہ نے اسلامی تعلیمات مدرسوں تک محدود کر دیں۔

پنجاب حکومت اور ٹرنس جینڈر

اخلاقی برائی ایک شخص کو تباہ کرتی ہے اس کا حساب بھی اس ایک شخص سے ہوگا۔ نا انصافی، ناپ تول کی کمی، قوانین کا مذاق، دولت کی غلط اور ناجائز تقسیم، اقربا پروری جیسی اور بے شمار برائیاں پوری قوم کو تباہ کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ ملک و قوم پستی کا شکار تب ہوتے ہیں برائی ایک زندگی کا معیار بن جائے۔

مولانا آذاد نے فرمایا غصہ اور قانون دونوں بڑے سمجھدار ہیں، کمزور کو دبا دیتے ہیں اور طاقتور سے دب جاتے ہیں۔
 لا قانونیت معاشرتی عادات و اطوار میں معمول کی طرح شامل ہو جائے۔ اللہ اس ملک و قوم پر رحم فرمائے ہمیں ایک عظیم قوم بنا دے۔ آمین!

Attiya Rubbani Column Belgium | Famous Urdu Columnist | Traffic Rules in Pakistan |Traffic signals|Traffic laws and road signs |Lawgical Talk |Nazreen Saqib

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: