کالم و مضامین

سوہانجنا ،غذابھی علاج بھی

rukhsana asad column
Rukhsana Asad Column

اللہ پاک نے انسان کواشرف المخلوقات بنایااورکائنات میں موجود ہر جاندار و بے جان شے کا مقصد صرف انسان کی خدمت بجا لانا ہے۔اتنے بڑے پہاڑ انسان کومعدنیات مہیاکرتے ہیں یاچرندپرند حیوانات و نباتات الغرض اس کائنات کی ہر مخلوق کوحضرت انسان کے تابع کردیاہے۔

انسان نے صرف اپنے دماغ کااستعمال کرکے اس بے بہا خزانے کوکھوجناہوتاہے، علم اور تحقیق کر کے اشیا کے فوائد کوباہرنکالناہوتا ہے۔اسی دماغ وتحقیق سے جدید سائنسی تحقیقات کے بعد سوہانجنادرخت کے فوائدسامنے آئے۔

سوہانجنا ایک ایسادرخت ہے جو غذائی، طبی اور صعنتی فوائدووقاربناچکاہے۔ سوہانجناغذائی اہمیت انسانوں اور جانوروں دونوں کے لئیے تسلیم شدہ ہے۔

سوہانجنا کے پتوں میں دودھ سے دوگنا زیادہ پروٹین اور چار گنا زیادہ کیلشئیم، گاجر سے چار گنا زیادہ وٹامن A, ترشاوہ پھلوں سے سات گنا زیادہ وٹامن C, کیلے سے تین گنا زیادہ پوٹاشیم اور دہی سے دوگنا زیادہ پروٹین پائی جاتی ہے۔اب یہ سوچیں جس کے پتوں کے اتنے فوائد ہیں توباقی درخت کے حصے میں کتنی غذائی اور طبی فوائد پائے جاتےونگے سوہانجنا میں وٹامنز، کیلسییم، میگنیشیم ، فاسفورس اور زنک وغیرہ شامل ہیں جو کہ کئی بیماریوں پر قابو پانے کے لئیے اہمیت کے حامل ہیں۔سوہانجنا کے مختلف حصوں کا بطور دوا استعمال قدم حکما اور اطبا سے بھی ثابت شدہ ہے۔

سوہانجنا کی خاص بات یہ ہے کہ اس پودے کا ہر حصہ، بیج، پتے، جڑ وغیرہ قابل استعمال ہے۔محترم قارئین میںسردی کے موسم میں جب بھی جاﺅں تومیری ساس محبت کے ساتھ سوہانجناپکاکرکھلاتی ہے اور لاہور واپسی پردے کربھیجتی ہے اورمیں جب لاہور کے کچھ دوستوں کویہ تحفہ دیتی ہوں۔

کیونکہ آج بھی کئی لوگ اس کے بارے میں نہیں جانتے توسوہانجنا کے فوائد بھی بتاتی ہوں ابھی کچھ دن پہلے ارم کودیاتواس نے اس کے فوائدپوچھے تواسے میں نے بتایاکہ سوہانجنا تیز رفتاری سے بڑھنے والادرخت ہے اور اس کا قدرتی مسکن شمالی ہندوستان اور جنوبی پاکستان ہے۔

سوہانجناپاکستان میں سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاقے میں بہت برسوں سے اپنی پہچان رکھتا ہے۔سوہانجنا کی چھال بھوری، نرم، موٹی اور دراڑوں والی ہوتی ہے۔

پتے اور پھول فروری اور مارچ میں آتے ہیں اور اس کی پھلیاں اپریل سے جون تک کے عرصہ میں پختہ ہو جاتی ہیں۔سوہانجنا کے تمام حصوں کو بے شک و شبہ غذا کے طور پر استعمال کیا جارہاہے۔

پودے کا پھل پھلیوں اور پھول کی صورت میں لگتا ہے جنہیں پکا کر سبزی ترکاری کے طور پر استعمال میں لانے کے علاوہ اچار کی صورت میں لمبے عرصے تک استعمال کے لئیے محفوظ کیا جاتا ہے اوراپنے دوردراز رہنے والوں کویہ سوغات بھیجی جاتی ہے اسی طرح اس کے پھول اور نوزائیدہ کونپلیں بھی پکانے کے کام آتی ہیں مگر انہیں زیادہ دیر تک پکانے سے انکی غذائی افادیت میں کمی آ جاتی ہے۔

اس کے علاوہ سوہانجنا کی سب سے زیادہ استعمال میں آنے والی نوعمر پودوں کی وہ جڑیں ہوتی ہیں جنہیں “سوہانجنے کی مولیاں” کہا جاتا ہے۔ مگرانہیں پکانے سے زیادہ اچار بنانے کے لئیے استعمال کیاجاتاہے اور اس سے بننے والا اچار لذیذ ہونے کے ساتھ ساتھ صحت بخش اجزا سے بھرپور بھی ہوتا ہے۔

ایک جگہ مین پڑھ رہی تھی کہ تحقیقات کے مطابق سوہانجنا کی سب سے زیادہ غذائی اہمیت اس کے تازہ پتوں اور پھولوں میں ہوتی ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ اس کے پتوں کا استعمال خشک سفوف کی صورت میں کیا جاتا ہے۔

پتوں کو چھاوں میں سکھانے کے بعد پیس کر ہوا بند مرتبانوں میں محفوظ کر لیا جاتا ہے اور اطبا کے مطابق بچوں اور بڑوں میں اس سفوف کا استعمال قوت مدافعت بڑھانے کے علاوہ ذہانت میں اضافے کا سبب بھی بنتا ہے۔

پتوں کا رس نکال کر جراثیم کش محلول کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے اور زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیئے کھاد بطوراستعمال کیاجاتاہے حالانکہ اس کے نتائج کھاد سے زیادہ ہوتے ہیں۔

سوہانجناکا ایک دو سالہ درخت تقریبا تین سے چار کلو گرام بیج دیتا ہے جبکہ ایک کلو گرام بیج سے پاو بھر تیل کا حصول ممکن ہوتا ہے۔سوہانجناکا تیل شفاف ہوتا ہے اس لئیے اسے دیگر تیلوں کی نسبت کم اور آسان پراسس کی ضرورت ہوتی ہے۔

مورنگا کے تیل کی سب سے اہم خصوصیت اس کا زیادہ دیر تک قابل استعمال رہنا ہے۔یہ کرشماتی درخت بے حد کسان دوست بھی ہے کیونکہ یہ زمین کی زرخیزی میں کمی کا سبب نہیں بنتا اور گہری جڑیں ہونے کے باعث زمینی اجزا کی مقدار نہیں گھٹاتا بلکہ اس کے گرنے والے پتوں کی بدولت زمین کی زرخیزی میں اضافہ ہوتا ہے۔

کسان اسے اپنے کھیتوں کے کناروں پر لگا کر اضافی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ بھی بنا سکتے ہیں۔کیونکہ یہ ایک کسان دوست درخت ہے اسلیے کھیتوں کے کنارے ، چراگاہوں، نہروں سڑکوں اور گزرگاہوں میں لگانے سے ماحول میں درختوں کے اضافے سے ہونے والی مثبت ماحولیاتی تبدیلیوں کے حصول کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے۔

کسانوں کو اس کرشماتی پودے سے فائدہ اٹھانے کے لئیے اسے زیادہ سے زیادہ کاشت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ذاتی آمدن اور معاشی بہتری کے علاوہ ملکی معشیت میں زرمبادلہ سے ایک اچھا اضافہ ممکن ہوسکتا ہے۔سوہانجناانسانوں کیلئے توفائدہ مندہے مگراس کے ساتھ جانوروں کے لئیے بھی بہترین خوراک یعنی چارے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

دیگر سبز چارہ جات کے ساتھ ایک حصہ سوہانجنا کے پتے شامل کرنے سے جانوروں کی بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت میں اضافے کے علاوہ دودھیل جانوروں کی دودھ اور گوشت کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔اگرکہاجائے کہ جیسے انسانوں کوبیماری سے بچانے کیلئے کروناویکسن ڈوز ہے توسوہانجناکے پتے بھی ویکسن ڈوز سے کم نیں۔

اس کے خشک پتوں کو مرغیوں کی غذا میں شامل کرنے سے پروٹین کی ضرورت کو کامیابی سے پورا کیا جاتا ہے۔یہ درخت تیزی سے بڑھتا ہے اور ایک سال بعد ہی بیج دینے لگ جاتا ہے جن سے عمدہ قسم کا تیل حاصل ہوتا ہے جو کہ گدلےپن کے بجائے شفاف خصوصیات کا حامل ہوتا ہے تاہم اس کے حصول کے لئیے وسیع سطح پر سوہانجنا کی کاشت کی ضرورت ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق یہ تیل خوردنی طور پر قابل استعمال ہونے کے علاوہ غذائی خوبیوں میں زیتون کے تیل کے برابر ہوتا ہے۔ اس کے دیگر استعمالات میں میک اپ کے سامان کی تیاری اور قیمتی گھڑیوں کے پرزوں میں چکنائی کے لئیے استعمال ہونا ہے۔

اس کے بیج میں تیس سے چالیس فیصد تیل ہوتا ہے اور اسے کوہلو میں باآسانی نکالا جا سکتا ہے۔ مورنگا کا تیل دنیا کا مہنگا ترین تیل ہے لہزا کثیر رقبے پر مورنگا کی کاشت سے بہترین زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔شہرمیں لوگ اسے جوڑوں کے درد کے دواکے طورپراستعمال کررہے ہیں۔

آخر میں اتنا کہنا چاہوں گی کہ کسان اسے اب خود کھانے کے بجائے صرف فروخت پرزوردے رہے ہیں جہاں انکے بچوں کی صحت وطاقت میں واضع فرق نظرآتاہے اس لیے کسانوں سے التماس ہے اسے زیادہ رقبہ پرکاشت کیاجائے جسے یقیناًملک و قوم کیلئے فائدہ پہنچے گا اورکسان کے ساتھ ہرکسی کے چہرے پرمسکان نظرآئے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: