جنوبی وزیرستان/وانا(آواز نیوز)خیبرپختونخواکے ضلع جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے کامیاب کارروائی میں 11دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں دہشتگردی کی بڑی کارروائی کو کامیابی سے ناکام بنادیا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں2خودکش حملہ آوروں سمیت11دہشت گرد انجام کو پہنچ گئے،ہلاک دہشتگردوں میں دہشت گرد کمانڈر حفیظ اللہ عرف طور حافظ بھی مارا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مارے گئے دہشت گرد ضلع جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں اور پولیس کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔
جموں :دسمبر (آواز نیوز) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جموں وکشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر وقار رسول وانی نے مقبوضہ علاقے میں صورتحال میں بہتری کے مودی حکومت کے دعوﺅں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ حقائق اس کے برعکس ہے ۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق وقار رسول وانی نے جموں میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راجوری حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ راجوری میں عام شہریوں کاقتل ناقابل برداشت ہے اوراس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔انہوں نے کہاکہ قابض انتظامیہ اورمودی حکومت کو انکے نئے کشمیر سے متعلق وعدے یاد دلاتے ہوئے کہاکہ ان کے دعوے جھوٹے ثابت ہو ئے ہیں ۔
وقار رسول نے کہاکہ راجوری میں شہری ہلاکتیں دراصل انٹیلی جنس کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔انہوں نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے پہلے اتوار کی شام عام شہریوں پر فائرنگ کی اور بعدازاں پیر کی صبح اسی مقام پر ایک دھماکہ بھی ہوا جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ انٹیلی جنس کی ناکامی ہے۔
انہوں نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ حکمران بی جے پی کے لیڈر کشمیرمیں حالات بہتر ہونے کے مسلسل دعوے کر رہے ہیں۔
تاہم مقبوضہ علاقے میں زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیاکہ ان کی پارٹی کے لیڈروں نے راجوری جانے کی کوشش تاہم بھارتی فورسز نے انہیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دی تاہم بی جے پی لیڈروں کو راجوری تک محفوظ راہداری دی جارہی ہے ۔
نئی دہلی (آواز نیوز) بھارت میں مسلمان دشمن مودی سرکار نے 16 ویں صدی میں تعمیر کی گئی تاریخی مسجد کو شہید کردیا۔
بھارتی ریاست اترپردیش میں انتہاپسند وزیراعلیٰ ا ٓدیتیہ ناتھ کی سرپرستی میں مسلمان کش کارروائیاں جاری ہیں۔ ریاستی مشینری مسلمانوں کو ختم کرنے کے سرکاری ایجنڈے پرعمل درآمد کررہی ہے۔
اترپردیش میں 16 ویں صدی میں تعمیر کی گئی تاریخی شاہی مسجد کو شہید کردیا۔ سوشل میڈیا پرسامنے والی ویڈیوز میں مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں کو بلڈورز کی مدد سے مسجد کو شہید کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
حکام نے دعویٰ کیا کہ مسجد سڑک کو چوڑا کرنے میں رکاوٹ بن رہی تھی اس لیے شہید کیا گیا۔
مسجد انتظامیہ اور علاقے میں رہائش پذیر مسلمانوں نے مسجد کو شہید ہونے سے روکنے کے لیے مقامی عدالت سے رجوع کررکھا تھا جہاں کیس کی سماعت 2 دن بعد ہونا تھی۔
اسلام آباد (آواز نیوز) پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کی چیئرپرسن اور بھارت کی جیل میں غیر قانونی طورپر نظر بند کشمیری حریت رہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ بھارت نے کشمیریوں کو انکا ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت دینے کے بجائے اپنے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر کو جیل میں تبدیل کررکھاہے جہاں موت کا رقص جاری ہے۔
Mishal Malik
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مشعال ملک نے یوم حق خود ارادیت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ اپنا حق خودارادیت مانگنے پر کشمیریوںکی آواز کو ہمیشہ کےلئے خاموش کرادیا جاتاہے۔
انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام تمام تر بھارتی مظالم کا نشانہ بننے کے باوجود پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگارہے ہیں اوراقوام متحدہ کوکشمیر سے متعلق اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کروانے کیلئے بھارت پر دباﺅ بڑھانا چاہیے۔
مشعال ملک نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت کا ایک اورسال گزرچکاہے،دعا ہے 2023کشمیریوں کے لیے بھارتی تسلط سے آزادی کا سال ثابت ہو۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں کشمیر میں موت کارقص جاری ہے۔
اسلام آباد(آواز نیوز)رہنما پاکستان پیپلز پارٹی اور وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان نے کہا ہے کہ گزشتہ76سالوں سے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور ظلم جاری ہے۔
جمعرات کو ٹوئٹر پر جاری پیغام میں سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ دنیا بھر میں کشمیری عالمی دنیا کی توجہ مبذول کروانے کےلئے ہر سال 5جنوری کے دن یومِ حق خودارادیت مناتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کی 5جنوری 1949 کی قرارداد کے مطابق بھارت پر لازم ہے کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے باری میں فیصلہ کرنے کا حق دے لیکن 74سالوں سے اس قرارداد پر عمل نہیں ہوا۔
انہوںنے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں ہر روز رپورٹ ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی دنیا نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر عالمی دنیا کی خاموشی اور بے بسی قابل مذمت اور افسوسناک ہے۔
سرینگر(آواز نیوز)غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال کو کنٹرول کرنے میں نا کام رہی ہے اور اب برادریوں کے درمیان اختلافات کو مزید ہوا دینے کیلئے مقامی لوگوں کو مسلح کر رہی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی اپنے ہندوتوا ایجنڈے کو پورا کرنے کیلئے لوگوں کومسلح کررہی ہے تاکہ مقبوضہ علاقے میں خوف ودہشت اور نفرت کا ماحول پیدا کیا جاسکے اور کمیونٹیز کو دوسرے سے لڑایا جاسکے ۔
انہوں نے کہا کہ راجوری حملے کے بعددیہات دفاع کمیٹیوںکو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرنے سے بی جے پی کے دعوے بے نقاب ہو گئے ہیں کہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں صورتحال بہتر ہو گئی ہے ۔
محبوبہ مفتی نے مزید کہاکہ اگر مقبوضہ علاقے میں حالات ٹھیک ہیں تو پھر مزید فوج کیوں بلائی جا رہی ہے اور مقامی لوگوں کو ہتھیار کیوں دیئے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ بی جے پی جموں وکشمیر کی صورتحال کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
سرینگر (آواز نیوز)غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ہائی کورٹ نے بھارت کی جیل میں قید شوپیاں کے نوجوان کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربندی کو کالعدم قراردے دیا ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کشمیری نوجوان رئیس احمد صوفی جو کہ ایک رکشہ ڈرائیور ہے، اس وقت بھارتی ریاست اتر پردیش کی آگرہ سینٹرل جیل میں قید ہے۔
ایڈووکیٹ بشیر احمد ٹاک نے ہائی کورٹ کے کے ایک ڈویژن بنچ کے سامنے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قابض انتظامیہ کی طرف سے انکے موکل کے خلاف عائد کئے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیاکہ ان کے موکل کو ایک پرانے مقدمے میں پتھراﺅ کرنے کے جھوٹے الزام میں گرفتار کیاگیا ہے۔
سرینگر (آواز نیوز)کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری کل یو م حق خود ارادیت اپنی جدوجہد آزادی کو اس کے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے عزم کی تجدید کے ساتھ منائیں گے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ دن منانے کی اپیل کل جماعتی حریت کانفرنس نے کی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر، آزاد کشمیر، پاکستان اور دنیا کے تمام بڑے دارالحکومتوں میں احتجاجی مظاہرے، ریلیاں، سیمینار اور دیگر پروگرام منعقد کیے جائیں گے تاکہ اقوام متحدہ کو یاد دلایا جاسکے۔
کہ وہ تنازعہ کشمیرکے حل کے لیے اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے اور کشمیریوںکو بھارتی جبر وا ستبداد سے نجات دلائے ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے5جنوری 1949کو ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کے ذریعے کشمیریوںکو اپنے مستقبل کافیصلہ خود کرنے کا موقع دینے کے حق کو تسلیم کیاگیا تھا۔
حل طلب تنازعہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک نیوکلیئر فلیش پوائنٹ بن چکا ہے جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ 5جنوری 1949کو منظور کی گئی قرارداد تنازعہ کشمیر کے حل کی بنیاد فراہم کرتی ہے تاہم بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی پر مبنی رویہ مسئلہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
یہ امر افسوسناک ہے کہ عالمی ادارہ اپنی منظورکردہ قراردادوں پر ابھی تک عمل درآمد نہیں کراسکاہے جس کی وجہ سے کشمیری مسلسل شدید مشکلات کا شکار ہے اور بھارت کشمیریوں کو اپنے پیدائشی حق، حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے پر بدترین ریاستی دہشت گردی اور مظالم کا نشانہ بنا رہا ہے۔ 23 دسمبر اور25دسمبر کو کشمیر پر اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انڈیا اور پاکستان کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے اصول اس کمیشن کی طرف سے 13اگست 1948کو منظور کی گئی کے علاوہ ہیں۔
ارجنٹائن، بیلجیئم، کولمبیا، چیکوسلواکیہ اور امریکہ اس کمیشن کے رکن تھے۔ اس قراردادکو متفقہ طورپر اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انڈیا اور پاکستان نے 5جنوری 1949کو منظور کیا تھا۔آج 75برس گرنے کے بعد بھی 13اگست 1948اور 5جنوری 1949کی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمدنہیں کیا جاسکا ہے۔
فسطائی بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیرمیں نہتے کشمیریوں کو محکوم بنانے کے لیے ظلم و تشدد کا نشانہ بنانے کیلئے فوجی اسٹیبلشمنٹ،بدنام زمانہ خفیہ ایجنسیوں را، آئی بی ،این آئی اے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کواستعمال کر رہی ہے۔ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کو استصواب رائے کے ذریعے آزادی دی گئی۔
جبکہ کشمیری آج بھی بھارتی قابض افواج کی بدترین ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں ۔مقبوضہ کشمیر کی صورتحال 05اگست 2019کے بعد سے انتہائی سنگین ہے جب مودی حکومت نے جموںو کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کر کے کشمیریوں سے انکے تمام حقوق چھین لئے تھے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ ، شبیر احمد شاہ ، محمد یاسین ملک ، آسیہ اندارابی اور نعیم احمدخان سمیت ہزاروں کشمیری بھارت کی جیلوں میں قید ہیںاورانہیں شدید مشکلات کاسامنا ہے ۔
سرینگر (آواز نیوز) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل میں اپنا کردار ادا کرے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شبیر احمد شاہ نے نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل سے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ یہ اقوام متحدہ اور تمام عالمی طاقتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سفاک بھارتی فورسز کے ہاتھوں کشمیریوں کی جاری نسل کشی کو روکیں۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے دیگر رہنمائوں مولوی بشیر عرفانی، دیویندر سنگھ بہل اور غلام نبی وار نے سرینگر اور جموں میں اپنے بیانات میں کہا کہ جموں وکشمیر کے بارے میں 5جنوری 1949کی قرارداد پر عمل درآمد نہ ہونا عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کی ناکامی ہے۔
حریت رہنمائوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کشمیری نوجوانوں کو روزانہ کی بنیاد پر جعلی مقابلوں میں شہید کیا جارہاہے لیکن دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
سرینگر اور دیگر علاقوں میںسید علی گیلانی، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک اور مسرت عالم بٹ سمیت غیر قانونی طور پر نظر بند اور شہید حریت رہنمائوں کی تصاویر والے پوسٹر چسپاں کئے گئے ہیں۔
جن میں اقوام متحدہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں اپنی 5جنوری 1949کی قرارداد پر عملدرآمد کرائے۔ پوسٹر کئی آزادی پسند تنظیموں نے چسپاں کئے تھے۔
دریں اثناء بھارتی فوجیوں نے گزشتہ رات ضلع راجوری کے علاقے ڈنگری میں چار افراد کی ہلاکت اور نو افراد کے زخمی ہونے کے بعد آج علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ علاقے میں آج بم دھماکے کے ایک اور واقعے میں ایک بچے سمیت دو افراد ہلاک اورپانچ زخمی ہو گئے۔
قتل عام کیخلاف آج راجوری قصبے میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ لوگ ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کے ساتھ ڈنگری چوک پر جمع ہوئے، سڑکیں بند کردیں جبکہ مظاہرین نے کشمیریوں کی جانوں کے تحفظ میں ناکامی پر مودی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارتی فوجیوں نے گزشتہ ماہ کی 16تاریخ کو اسی ضلع میں دو ہندو مزدوروں کوایک جعلی مقابلے میں قتل کر دیا تھا۔
سرینگر(آواز نیوز) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کہا ہے۔
کہ بے گناہوں کا قتل عام بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی کی طرف سے پھیلائی جا رہی نفرت کا نتیجہ ہے اورقابض انتظامیہ کو ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کرنے چاہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق فاروق عبداللہ نے سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت لوگوں کو تقسیم کرکے کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے لیے اتحاد ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے بے گناہوں کا خون بہایا جارہا ہے۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ بے گناہوں کے قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور قابض حکام کو اسکی روک تھام کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔