Daily Awaz News | Latest News in Urdu

Category: پاکستان

Latest Pakistani Urdu news, the only spokesman for the latest and most important news of Pakistan. The Largest newspaper Daily Awaz News.

  • صدر عارف علوی کا ماضی کا ریکارڈ دیکھیں تو انتخابات نہ کراتے، چیف جسٹس

    صدر عارف علوی کا ماضی کا ریکارڈ دیکھیں تو انتخابات نہ کراتے، چیف جسٹس

    اسلام آباد: سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ اگر عارف علوی کا ماضی کا ریکارڈ دیکھیں تو انتخابات نہ کراتے، صدر مملکت عارف علوی پی ٹی آئی کے ہو کر کیوں انتخابات کی تاریخ نہیں دے رہے تھے؟ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے کیس کی سماعت کی۔ الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے دلائل کا آغاز کیا۔

    سکندر مہمند نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل میں شامل 81 آزاد ارکان کے کاغذات نامزدگی بھی منگوائے تھے، تمام ریکارڈ ضلعی سطح پر ہوتا ہے مکمل ریکارڈ نہیں ملا لیکن اسکی سمری موجود ہے۔

    جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ تحریک انصاف کی ترجیحی فہرست بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ حامد رضا نے حلف لے کر کہا میں تو تحریک انصاف نظریاتی میں ہوں۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کے مطابق الیکشن کمیشن نے حامد رضا کو ٹاور کا نشان دیا، ریٹرننگ افسران بھی تو الیکشن کمیشن کے ہی آفیشلز ہیں۔ وکیل نے بتایا کہ حامد رضا کی سب سے آخری درخواست پر الیکشن کمیشن نے عمل درآمد کیا۔

    کراچی: بیٹے نے فلیٹ کے لالچ میں بیوی اور دو دوستوں سے مل کر باپ کو قتل کردیا

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ حامد رضا نے کس سیاسی جماعت سے خود کو منسلک کیا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو ریکارڈ ہے ہمیں دکھائیں، ورنہ تو ہوا میں بات ہوگی۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا کاغذات نامزدگی واپس لینے کے بعد کسی امیدوار کو اختیار ہے کہ اپنی پارٹی تبدیل کرلے؟ کیا کوئی امیدوار کہہ سکتا ہے کہ فلاں پارٹی کو چھوڑ کر دوسری پارٹی کا ٹکٹ لینا چاہتا ہوں؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمارے سامنے کاغذات نامزدگی کا کیس ہے، ریٹرننگ افسران کے پاس امیدوار کے کاغذات نامزدگی کے ساتھ منسلک پارٹی سرٹیفیکیٹ ہوتا ہے؟ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے جو آخری درخواست ہو اس کے ساتھ جانا ہوتا ہے، پہلے والا فارم الیکشن کمیشن نے کیوں نہیں دیکھا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ایک شخص اگر شادی کرنا چاہے لیکن لڑکی کی بھی رضامندی ضروری ہے نا، جس پارٹی سے انتخابات لڑنے ہیں اسی کی پارٹی سے منسلک ہونے کا سرٹیفیکیٹ لگانا ضروری ہے نا؟ سرٹیفیکیٹ تحریک انصاف نظریاتی اور ڈیکلریشن منسوخ پی ٹی آئی کا کریں تو قانون کیا کہتا؟ کیا آپ کسی کو انتخابات سے باہر کرسکتے ہیں؟ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ ریٹرننگ افسران کے لیے صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے آسان راستہ تھا کہ ایسے امیدواروں کو آزاد ظاہر کیا جائے۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال کیا کہ کیا ایسا ہوا کہ امیدوار کہے میں ایک پارٹی کا ہوں، اسی کا سرٹیفیکیٹ بھی دے لیکن الیکشن کمیشن نے اسے آزاد امیدوار ظاہر کر دیا ہو؟ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ ایسے امیدوار تھے لیکن انہوں نے کاغذات نامزدگی واپس لے لی۔

    جسٹس نعیم افغان نے سوال کیا کہ کیا دستاویزات سے ظاہر نہیں ہوتا کہ تحریک انصاف کے امیدواروں کا غیر سنجیدہ رویہ تھا؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ نشان سے کنفیوژ نہ کریں، ہم تحریک انصاف کے امیدوار کیوں نہ تصور کریں، سرٹیفیکیٹ میں تضاد نہیں، الیکشن کمیشن امیدوار کی حیثیت تبدیل کر رہا ہے، جس پارٹی کا سرٹیفیکیٹ لایا جا رہا اسی پارٹی کا امیدوار کو تصور کیوں نہیں کیا جا رہا؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مجھے جو سمجھ آرہا کہ امیدوار کے پاس اختیار نہیں کہ آخری تاریخ گزرنے کے بعد اپنی سیاسی وابستگی تبدیل کرے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الیکشن کمیشن وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کا جواب سمجھ نہیں آرہا لیکن اگے بڑھتے ہیں۔

    جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس میں کہا کہ آپ نے امیدواروں کو آزاد کیوں کہا جب خود کو وہ ایک سیاسی جماعت سے وابستہ کہہ رہے تھے؟ کنفیوژن شروع ہوگئی کہ پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملا تو امیدوار کیا کرسکتا ہے، پوچھا تو الیکشن کمیشن سے جائے گا نا کہ انہوں نے کیا کیا؟ آزاد امیدوار تو الیکشن کمیشن نے بنایا تھا۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک امیدوار کی بات نہیں، تحریک انصاف کی بات ہو رہی جو قومی جماعت ہے، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو کہا کہ آپ کو نشان نہیں ملے گا، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا لیکن ایسا نہیں کہا کہ تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کر دیں، سپریم کورٹ کا تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد ہرگز نہیں تھا، بلے کے نشان کے فیصلے کے ساتھ سپریم کورٹ کھڑی ہوتی لیکن تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد نہیں تھا۔

    جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ 22 دسمبر 2023 کو صدر مملکت کون تھا؟ وکیل سکندر بشیر نے بتایا کہ دسمبر 2023 میں صدر مملکت عارف علوی تھے۔

    جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا نگراں حکومت تھی یا سیاسی جماعت کی حکومت تھی؟ کیا کسی نگراں حکومت کو نیوٹرل ہونا چاہیے؟ اتنی نیوٹرل جتنا الیکشن کمیشن ہے؟ کیا نگراں حکومت اتنی ہی انڈیپینڈنٹ ہونی چاہیے جتنا الیکشن کمیشن ہے؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر عارف علوی کا ماضی کا ریکارڈ دیکھتے تو انتخابات عارف علوی نہ کرتے، دنیا بھر کی باتیں کر رہے، صدر مملکت عارف علوی پی ٹی آئی کے ہو کر کیوں انتخابات کی تاریخ نہیں دے رہے تھے؟ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ انتخابات میں عوام کی منشا دیکھی جاتی ہے، اگر کوئی انتخابات پر سوال اٹھے تو الیکشن کمیشن کے پاس معاملہ جاتا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیاسی نشان بعد کی بات ہے، امیدوار انتخابات میں حصہ لیتا ہے، پارٹی نہیں، امیدوار صرف پارٹی کے ساتھ اپنی وابستگی ظاہر کرتا، امیدوار کا حق ہے کہ اسے انتخابات کے لیے نشان ملے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئےکہ مفروضوں والی باتیں کیس میں نہ کریں۔ وکیل سکندر بشیر نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے پشاور کے پانچ رکنی بینچ کو مطمئن کیا، میرے دلائل کو ججز نے باہر نہیں پھینکا۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایسا نہ کہیں کہ پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ دے دیا تو بس ہوگیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ حامد رضا نے ٹکٹ کس جماعت کا جمع کرایا تھا۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹکٹ تحریک انصاف کا جمع کرایا گیا تھا، حامد رضا نے بیان حلفی دیا کہ وہ پی ٹی آئی نظریاتی کے امیدوار ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ بیان حلفی کا معاملہ الگ ہے جمع کرایا گیا ٹکٹ پی ٹی آئی کا تھا۔ سکندر مہمند نے کہا کہ سنی اتحاد میں شامل ہونے والوں کی سب سے آخری درخواستیں منظور کی گئیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ امیدواروں کی حتمی فہرست 12جنوری کو جاری ہونا تھی، کیا کاغذات نامزدگی واپسی کی تاریخ کے بعد امیدوار پارٹی تبدیل کر سکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابی نشان کی الاٹمنٹ تک پارٹی ٹکٹ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

    جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن نے امیدواروں کی جانب سے جمع کرائے گئے فارم اے کا جائزہ کیوں نہیں لیا؟ الیکشن کمیشن نے صرف آزاد امیدوار والی آخری درخواست پر ہی عمل کیوں نہیں کیا؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ امیدوار اپنی وابستگی چاہے بتائے لیکن پارٹی کی رضامندی بھی ضروری ہے، امیدواروں نے خود ٹکٹ اور پارٹی وابستگی میں تضاد قائم کیا، کیا قانون میں اس تضاد پر کوئی شق موجود ہے؟ یہ تو ایسا ہی ہے کوئی کسی سے شادی کرنا چاہے لیکن لڑکی کی رضامندی بھی ضروری ہے۔

    وکیل سکندر مہمند نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ اور وابستگی میں تضادات پر آر او کے پاس آزاد امیدوار ظاہر کرنا ہی بہترین حل تھا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا بیان حلفی دے کر دوسری جماعت کا ٹکٹ دینے پر نااہلی نہیں ہوتی؟ جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال کیا کہ اگر کوئی امیدوار پارٹی وابستگی اور ٹکٹ جمع کرائے تو کیا اسے آزاد ظاہر کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ جن 81 امیدواروں کی فہرست آپ نے دی ہے اس میں 35 نے وابستگی ظاہر نہیں کی، 65 امیدواروں نے ریٹرننگ افسر کو انتخابی نشان کیلئے درخواست ہی نہیں دی، ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی امیدوار الیکشن کے حوالے سے کتنے غیر سنجیدہ تھے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کچھ امیدواروں نے پارٹی وابستگی اور ٹکٹ دونوں پی ٹی آئی کے ظاہر کیے، انتخابی نشان الگ چیز ہے ان امیدواروں کو پی ٹی آئی کا کیوں تصور نہ کیا جائے، امیدواروں نے نہیں الیکشن کمیشن نے انکی حیثیت پارٹی سے آزاد تبدیل کی۔

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کچھ امیدواروں نے تحریری نہیں زبانی طور پر پر پارٹی وابستگی واپس لی۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے 22 دسمبر کے فیصلے سے کنفیوژن پیدا ہوئی، پی ٹی آئی الیکشن نہیں لڑ سکتی تھی تو امیدوار پارٹی ٹکٹ کہاں سے لاتے؟ امیدوار بھی ایسے ہی کنفیوژ ہوئے جیسے الیکشن کمیشن ہے۔

    سکندر مہمند نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تضادات کے باوجود امیدواروں کو انتخاب لڑنے کی اجازت دی۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی کے وقت ہی کہا پی ٹی آئی کو نشان نہیں ملے گا، الیکشن کمیشن نے بعد میں پی ٹی آئی امیدواروں کے کاغذات منظور بھی کیے، الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو نان پارٹی انتخابی نشان دے سکتا تھا۔

    آپ نے بڑی آسانی سے کہہ دیا کہ نشان نہیں ملا تو آزاد امیدوار ڈیکلیئر کر دیں، اتنا بڑا فیصلہ کیسے کرلیا؟ کیا الیکشن کمیشن نے بات کی اس معاملے پر؟ کیا منٹس موجود ہیں؟ یا ریٹرننگ افسران کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ امیدوار کو آزاد ڈیکلیئر کر دیں، امیدوار تو کہہ رہا کہ میں فلاں سیاسی جماعت سے منسلک ہوں لیکن الیکشن کمیشن نے کہا کہ نہیں آپ آزاد امیدوار ہیں، امیدوار نے تو نہیں کہا کہ میں آزادامیدوار ہوں، وہ تو کہہ رہا کہ سیاسی جماعت سے منسلک ہوں، اگر الیکشن کمیشن نے کوئی دستاویز نہیں دیکھا تو عدالت کو دکھانے کا تو کوئی جواز نہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ سادہ بات ہے پارٹی اور امیدوار کے درمیان معاہدہ ہوتا، کس قانون کے تحت الیکشن کمیشن کسی کو آزادامیدوار قرار دے سکتا؟ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ میں ایک ہی سوال تیسری بار پوچھ چکی ہوں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا کہ کیا ایسا مانا جائے کہ تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کیا گیا کیونکہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی؟ بینچ تو کہہ رہا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ چھوڑ دیں 80 سے زائد امیدواروں کو، چھ امیدواروں نے سرٹیفیکیٹ اور ڈیکلریشن ایک ہی پارٹی کا بھی دیا لیکن چھ کو بھی الیکشن کمیشن نے آزاد امیدوار قرار دے دیا۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ مجھے بتائیں کاغذات نامزدگی واپس نہ لیں تو حلف کی کیا حیثیت ہے؟ میرے سوال کا جواب نہیں دیا جا رہا۔

    جسٹس منصورعلی شاہ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ایسا لگ رہا آپ نے شیکسپیئر کا ڈرامہ دیکھا ہے۔

    وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ چند امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لیے اور آزاد امیدوار خود کو ظاہر کیا، آزاد امیدوار سنی اتحاد میں شامل ہوئے، کیس میرا نہیں، سنی اتحاد کا ہے، دیکھنا ہوگا کہ اپیل میں سنی اتحاد نے کیا دلائل و حقائق سامنے رکھے، آزاد امیدوار ہونے کے لیے پارٹی جوائن کرنا ضروری ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آزاد امیدوار نے خود کو امیدوار ظاہر نہیں کیا بلکہ الیکشن کمیشن نے آزاد ڈیکلیئر کیا، الیکشن کمیشن نے امیدوار کو آزاد بنایا، الیکشن لڑا، پھر جماعت کے ساتھ منسلک ہونا چاہ رہے تو الیکشن کمیشن کہہ رہا کیسے شامل ہوسکتے؟ الیکشن کمیشن نے امیدوار کو آزاد امیدوار کہا اور اب جب امیدوار اپنی پارٹی میں شامل ہونا چاہ رہا تو الیکشن کمیشن مذاق اڑا رہا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مجھے سننا پسند ہے، میرا اپنا دماغ بھی ہے لیکن وکیل کو سننا چاہتا ہوں۔

    وکیل نے بتایا کہ تحریک انصاف نظریاتی کا ٹکٹ تو کسی کو ملا ہی نہیں۔، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ کچھ حقائق واضح ہوتے جس کے لیے آپ کا یا میرا بولنا نہیں ضروری، الیکشن کمیشن کے عدالت کو مہیہ کیے گئے دستاویزات میں تنازع ہے۔

    وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ حامد رضا نے شٹل کاک مانگا لیکن شٹل کاک تو الیکشن کمیشن کے پاس نشان دستیاب تھا ہی نہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ ڈی جی لاء نے روسٹرم پر سنی اتحاد کا مخصوص نشستوں سے متعلق مینی فیسٹو پڑھا۔

    جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن ہر سیاسی جماعت کا مینی فیسٹو پڑھ کر انہیں مخصوص نشستیں دیتا ہے؟ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ مجھے ضروری لگا کہ سنی اتحاد کا مینی فیسٹو عدالت کے سامنے لایا جائے۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا میں تمام پارٹیوں کا دیکھوں یا ایک پارٹی کا مینی فیسٹو دیکھوں؟ دیگر پارٹیوں کے مینی فیسٹو کو نظر انداز کیوں کروں؟ وکیل نے کہا کہ آپ کسی اور پارٹی کا مینی فیسٹو نہ دیکھیں، آپ میری بات سنیں۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ نے سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین کو خود آزاد ڈیکلیئر کیا، آپ کے آزاد ڈیکلیئر کرنے پر وہ کامیاب ہو کر واپس اپنی ہی جماعت میں شامل ہوا، اب آپ کہہ رہے ہیں سنی اتحاد کونسل کا چیئرمین خود کیسے اپنی جماعت میں شامل ہوا؟ یہ صورتحال آپ کی اپنی پیدا کردہ ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس جمال مندوخیل کے سوال پر ریمارکس دیے کہ مدھم آوازوں کو بھی توجہ دیں۔

    وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ میں ہر کسی کو سوال کا جواب دینے کی کوشش کر رہا ہوں۔ وکیل سکندر بشیر کی جانب سے مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن ایکٹ کے مختلف سیکشنز پڑھے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مخصوص نشست لینی ہے تو جنرل سیٹ جیتنی پڑے گی جو سنی اتحاد جیتنے میں ناکام رہی، آزاد امیدواروں کا سنی اتحاد سے کوئی تعلق نہیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا تحریک انصاف اور سنی اتحاد نے کوئی لسٹ دی؟ وکیل نے بتایا کہ تحریک انصاف نے مخصوص نشستوں کی لسٹ دی لیکن سنی اتحاد نے نہیں دی۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دیں؟ وکیل نے جواب دیا کہ تحریک انصاف کو کوئی مخصوص نشست نہیں دی گئی۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو انتخابات سے الگ کر دیا تھا، سپریم کورٹ اگر کہے کہ الیکشن کمیشن نے فیصلے کی غلط تشریح کی تو کیا اثرات ہوں گے؟ الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں کہ کسی پارٹی کو انتخابات سے باہر کرے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الیکشن کمیشن وکیل سے سوال کیا کہ آپ کو کتنا وقت لگے گا؟ ایک دو منٹ؟ وکیل نے جواب دیا کہ مجھے کافی وقت دلائل دینے میں لگیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم تو کوشش کر رہے کہ جلد ختم کریں، پیر کا دن رکھ لیں؟ ساڑھے گیارہ بجے؟ تحریک انصاف کی لسٹ آج مہیہ کر دیں۔

    وکیل نے کہا کہ میں تحریک انصاف کی لسٹ دے دوں گا۔ سپریم کورٹ نے دیگر وکلاء کو تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں سے متعلق لسٹ مہیہ کرنے کی ہدایت کر دی۔ جسٹس یحییٰ آفریدی ہدایت کی کہ دیگر امیدواروں کے سرٹیفیکیٹ اور ڈیکلریشن بھی مہیہ کر دیں۔

    سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت پیر ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی۔

    If you look at President Arif’s past record, he would not have held election.PTI News in Urdu.Putin buys an ice cream for Erdoğan: ‘Will you pay for me too?’

  • کراچی: بیٹے نے فلیٹ کے لالچ میں بیوی اور دو دوستوں سے مل کر باپ کو قتل کردیا

    کراچی: بیٹے نے فلیٹ کے لالچ میں بیوی اور دو دوستوں سے مل کر باپ کو قتل کردیا

    کراچی: سرجانی میں سگے بیٹے نے فلیٹ کے لالچ میں بیوی اور دو دوستوں سے مل کر باپ کو قتل کردیا، پولیس نے چاروں کو گرفتار کرلیا

    ایکسپریس کے مطابق پیر کی شب سرجانی ٹاؤن تھانے کے علاقے کے ڈی اے ایکسٹینشن فیز 2 کے فلیٹ کے باتھ روم سے کئی روز پرانی ایک شخص کی لاش ملی تھی، مقتول کو تشدد کے بعد ہتھوڑا مار کر قتل کیا گیا تھا، مقتول کی شناخت 43 سالہ سید شاہد علی ولد سردار علی کے نام سے کی گئی، مقتول شاہد علی سندھ سیکریٹریٹ کا ملازم تھا پولیس نے واقعے کا مقدمہ الزام نمبر 24/737 بجرم دفعہ 34/302 کے تحت سرجانی ٹاؤن تھانے میں درج کرکے تفتیش شروع کردی۔

    ایس ایس پی ویسٹ حفیظ الرحمن بگٹی نے بتایا کہ مقتول شاہد علی کو عیدالاضحٰی کے دوسرے روز قتل کیا گیا تھا اور پیر کو فلیٹ سے تعین اٹھنے پر پولیس کو واقعے کی اطلاع ملی تھی۔

    کراچی میں 2 منزلہ عمارت گرگی

    پولیس نے دوران تفتیش شہری شاہد علی کے قتل میں ملوث مقتول کے سگے بیٹے بلال ولد شاہد، بہو ماہ نور زوجہ بلال اور بیٹے بلال کے دو دوست احمر ولد عامر، انعام ولد ولید کو گرفتار کرلیا،گرفتار ملزمہ سے مقتول کا موبائل فون اور موقع سے آلہ قتل ہتھوڑا اور پردہ، چادر برآمد ہوئی جس میں لاش کو لپیٹا گیا تھا۔

    ایس ایس پی ویسٹ نے بتایا کہ مقتول شاہد علی نے 14 سال قبل بیوی کو طلاق دے دی تھی اور مقتول کا بیٹا اپنی والدہ کے ساتھ رہائش پذیر تھا، مقتول کی بیوی نے طلاق کے بعد نعمان نامی شہری سے شادی کرلی تھی جس کے بعد مقتول کا بیٹا دوستوں کے گھر رہنے لگا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ مقتول کے بیٹے بلال نے بھی شادی کرلی تھی اور اس کی دو بیٹیاں ہیں، بلال کی بیوی اپنے میکے میں رہائش پذیر تھی بیٹے بلال کے پاس رہنے کا ٹھکانہ نہیں تھا اور مقتول والد شاہد علی اپنے فلیٹ میں اکیلا رہتا تھا۔ مقتول کے بیٹے بلال نے اپنی بیوی اور دو دوستوں کے ساتھ باپ کے قتل کا منصوبہ بنایا تاکہ وہ والد کا فلیٹ حاصل کرکے اس میں رہائش اختیار کرسکے جبکہ دوستوں کو بلال کے والد کی پینشن سے ملنی والی رقم کا لالچ دیا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ عیدالاضحٰی کے روز بلال اپنی بیوی کے ہمراہ والد سے عید ملنے گیا تھا جہاں اس نے دوستوں کو بھی بلوایا ہوا تھا بلال نے منصوبے کے تحت اپنے بیوی اور دوستوں کے ساتھ والد کو قتل کیا اور فرار ہو گئے۔

    ایس ایس پی نے بتایا کہ ملزم بلال شہر چھوڑ کر فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا کہ پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔

    The son killed the father with two friends in the greed of the flat.National News in Urdu.Karachi : Father suspected of killing wife, three sons

  • کراچی میں 2 منزلہ عمارت گرگی

    کراچی میں 2 منزلہ عمارت گرگی

    کراچی: کراچی میں 2 منزل عمارت متصل لاٹ پر کھدائی کے باعث اچانک زمیں بوس ہو گئی۔ لیاقت آباد کے علاقے میں عمارت گرنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    عمارت میں اسکریپ کی دکان قائم تھی اور متصل پلاٹ پر کھدائی کا کام جاری تھا جس کے باعث عمارت پہلے ٹیڑھی ہوئی اوراچانک زمیں بوس ہوگئی۔

    لیاقت آباد6 نمبرکے قریب پیش آنے والے حادثے کی اطلاع پر پولیس، فائربریگیڈ، ریسکیو 1122 کی ٹیم اوردیگر ادارے موقع پر پہنچ گئے۔ 2

    منزلہ عمارت میں اسکریپ کی دکان قائم تھی اوردکان میں کئی ملازم موجود تھے جو بروقت دکان سے باہر نکل آئے۔ موقع پرموجود شہریوں نے بتایا کہ زمیں بوس ہونے والی اسکریپ کی دکان متصل بھورے خان سینٹر کے نام 4 منزلہ عمارت موجود تھی جوعامرمغل نامی شخص نے خریدی ہے۔

    عامر مغل نامی شخص نےمتعلقہ اداروں کی اجازت لیے بغیر پہلے عمارت منہدم کی جس کے بعد پلاٹ پرزیرزمین کھدائی کی جا رہی تھی۔

    میری شادی کی خبریں پھیلانے والوں نے جہیز بھی جمع کرلیا ہوگا، فضا علی

    دکانداروں کی جانب سے منع کرنے کے باوجود پلاٹ پر گزشتہ 2 روز سے کھدائی جاری تھی۔ اسکریپ کی دکان کے مالکان کومحسوس ہوا کہ عمارت ٹیڑھی ہو رہی ہے جس پر وہ اسکریپ کی دکان کے مالکان اورعملہ دکان سے باہر آیا تو اچانک عمارت زمین بوس ہو گئی ۔

    اسکریپ کی دکان 26 گزپربنی ہوئی تھی۔ متاثرہ اسکریپ کی دکان کے مالک فراز نے بتایا کہ پلاٹ پرمزدور کی جانب سے کھدائی کی جا رہی تھی۔

    مزدور کھانا کھانے کے لیے باہر گئے، اسی دوران میں دکان سے باہر آیا تو عمارت ٹیڑھی ہونے لگی، جس پرفوری دکان کے عملے کو باہرنکالا اور اس دوران عمارت زمیں بوس ہو گئی۔

    انہوں نے بتایا کہ حادثے میں جانی نقصان تو نہیں ہوا لیکن مالی نقصان بہت ہوا۔ ان کا کاروبار مکمل تباہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا 40 سال پرانا کاروبارتھا جوکہ مکمل تباہ ہو گیا۔

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ان کے نقصان کا ازالہ کرے۔

    A 2 storied building collapsed in Karachi.National News in Urdu.At least 2 dead in Karachi building collapse

  • پی ٹی آئی نے الیکشن رکوانے کی کوشش کی،وزیراعظم عمران خان الیکشن کمیشن پر اثرانداز ہوئے،چیف جسٹس

    پی ٹی آئی نے الیکشن رکوانے کی کوشش کی،وزیراعظم عمران خان الیکشن کمیشن پر اثرانداز ہوئے،چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے الیکشن رکوانے کی کوشش کی، عمران خان الیکشن کمیشن پر اثرانداز ہوئے۔

    چیف جسٹس کی سربراہی میں فل کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

    گجرات جیل میں قیدی کو ریکارڈنگ ڈیوائس فراہم کرنے پر تین وارڈرنز معطل

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب ضرورت ہوتی ہے ہمارے پاس آتے ہیں، وہ وقت بھی یاد رکھیں جب الیکشن کے انتخابات کی تاریخ ہم نے دی تھی۔

    الیکشن کس نے کروائے، الیکشن رکوانے کی کوشش پی ٹی آئی نے کی، صدر مملکت اس وقت عارف علوی تھے، کیا پی ٹی آئی کو ہم نے کہا انٹرا پارٹی الیکشن نہ کروائیں؟ الیکشن کمیشن کی جانب سے منت سماجت کی گئی پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کروائے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت وزیراعظم عمران خان تھے، عمران خان بطور وزیراعظم بھی الیکشن کمیشن پر اثرانداز ہو رہے تھے، سال بھر کی تاریخ دی گئی الیکشن کروانے کیلئے، یا تو پھر قانون کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں، جب ہم ووٹر کی بات کر رہے ہیں تو پی ٹی آئی کے ممبران کا حق کدھر گیا، آدھی بات نہ کریں۔

    PTI tried to stop the election.PTI News in Urdu.Breaking News: Imran Khan ki Lotery Nikal Aai | Election 2024 | Samaa TV

  • گجرات جیل میں قیدی کو ریکارڈنگ ڈیوائس فراہم کرنے پر تین وارڈرنز معطل

    گجرات جیل میں قیدی کو ریکارڈنگ ڈیوائس فراہم کرنے پر تین وارڈرنز معطل

     راولپنڈی: ڈسٹرکٹ جیل گجرات میں قیدی کو ریکارڈنگ ڈیوائس فراہم کرنے پر تین وارڈنز کو نوکری سے معطل کردیا گیا۔

    قیدی ظہیر الدین بابر نے حوالاتی اکمل حسین کی مدد سے جیل انتظامیہ کو بلیک میل کرنے کیلئے خود پر تشدد کا سین بنا کر پین نما ریکارڈنگ ڈیوائس کی مدد سے ویڈیو ریکارڈ کی تھی۔

    معاملے کی انکوائری کے بعد جیل وارڈنز محمد نزیر، فرخ امین اور عدنان خان کو قیدی ظہیر الدین کو ریکارڈنگ ڈیوائس فراہم کرنے پر نوکری سے معطل کردیا گیا۔

    ہوشاب میں تھانے پر حملہ، غفلت برتنے پر نائب رسالدار سمیت 10 لیویز اہلکار برطرف

    ہیڈ وارڈن اسجد منیر اور گلزار حسین اور اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ جیل بابر اکرم کو بطور ایگزیکٹو انچارج شو کاز نوٹس جاری کیا گیا ہے جبکہ ڈپٹی سپرٹینڈنٹ جیل اور سپرٹینڈنٹ جیل سے بھی وضاحت طلب کی گئی ہے۔

    آئی جی جیل پنجاب میاں فاروق نزیر کا کہنا ہے کہ اس حرکت پر مذکورہ اسیران کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے جبکہ جیل اہلکاران و افسران کے خلاف تادیبی کاروائی کا آغاز کیا جا چکا ہے، تمام تر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ذمہ داران کو قرار واقعی سزادی جائے گی۔

    آئی جی جیل پنجاب کا کہنا ہے کہ قیدی ظہیر الدین انتہائی شاطر اور سازشی ذہن کا حامل ہے، مذکورہ قیدی اس سے قبل بھی اٹھارہ مرتبہ جیل قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر آٹھ مختلف جیلوں سے دوسری جیلوں میں شفٹ کیا جا چکا ہے۔

    Gujarat Jail News in Urdu.Pakistani News in Urdu.Sahiwal central jail incident: 3 prison warders suspended | Daily Awaz News.

  • ہوشاب میں تھانے پر حملہ، غفلت برتنے پر نائب رسالدار سمیت 10 لیویز اہلکار برطرف

    ہوشاب میں تھانے پر حملہ، غفلت برتنے پر نائب رسالدار سمیت 10 لیویز اہلکار برطرف

    کیچ: بلوچستان کے علاقے ہوشاب میں لیویز تھانے  پر مسلح افراد کے حملے میں غفلت برتنے  پر نائب رسالدار سمیت 10 اہلکاروں کو برطرف کردیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق لیویز تھانہ ہوشاپ پر مسلح افراد کے حملے تحقیقات کا آغاز ہوگیا، جس میں غفلت برتنے پر نائب رسالدار سمیت دس لیویز اہلکار کو برطرف کردیا گیا ہے۔

    سوات واقعے کی تحقیقات کیلیے جے آئی ٹی تشکیل

    ڈپٹی کمشنر کیچ اسماعیل ابراہیم نے بتایا کہ تھانے پر حملہ کرنے والے ملزمان کی گرفتاری کیلئے سرچ آپریشن کیا جارہا ہے، جبکہ اس حوالے قبائلی عمائدین سے بھی رابطے میں ہیں۔

    انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملزمان کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    Attack on Police Station in Hoshab.Pakistani News in Urdu.Filters SHORTS Now playing Pakistan: Militants Kill 10 in Police Station Attack | Subscribe to Firstpost.

  • سوات واقعے کی تحقیقات کیلیے جے آئی ٹی تشکیل

    سوات واقعے کی تحقیقات کیلیے جے آئی ٹی تشکیل

    پشاور / سوات: سوات میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔کیپٹل پولیس آفس کے ذرائع نے بتایا کہ خیبر پختونخوا پولیس نے مدین واقعے کی تحقیقات کیلیے 10 رکنی جے آئی ٹی جے آئی ٹی تشکیل دے دی، جس میں سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ اور سینئر پولیس افسران کو شامل کیا گیا ہے جبکہ اس کی مانیٹرنگ ڈی آئی جی مالاکنڈ کریں گے۔

    واقعے کے مقدمے میں دو ہزار افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جن کیخلاف کارروائی کیلیے متعلقہ افراد کے سیلولر ڈیٹا، شناخت میں نادرا سے مدد لی جائے گی۔

    وفاقی حکومت کا این ایف سی ایوارڈ میں توسیع کا فیصلہ

    اُدھر ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جائے وقوعہ پر سیاسی ، اعلی شخصیت بھی نہیں پہنچیں جبکہ جھڑپ میں 11 افراد اور پ 5 پولیس اہلکار  زخمی ہوئے اور مشتعل مظاہرین نے دو موٹرسائیکلیں ، پانچ گاڑیاں بھی نذر آتش کیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مدین پولیس نے پولیس نے ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لئے نفری مانگی تھی۔ اس کے علاوہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مقامی ایس ایچ او مبینہ ملزم کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں ناکام رہا۔

    JIT Formed to Probe Swat Incident.Pakistani News in Urdu.Young man shot dead by Islamabad police, JIT formed to investigate incident | Daiily Awaz News.

  • وفاقی حکومت کا این ایف سی ایوارڈ میں توسیع کا فیصلہ

    وفاقی حکومت کا این ایف سی ایوارڈ میں توسیع کا فیصلہ

    وزارت خزانہ حکام کا کہنا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن کو یکم جولائی سے پہلے نیا ایوارڈ دینا ہے اور موجودہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں توسیع کرنی ہے۔

    وزارت خزانہ کے مطابق قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ پانچ سال کیلئے ہوتا ہے، نیا ایوارڈ طے نہ ہو سکے توحکومت موجودہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں توسیع کرسکتی ہے۔

    عون چوہدری کے خلاف انتخابی عذرداری فیصلہ، فریقین سے جواب و دستاویزات طلب

    ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں توسیع حکومت کی سفارش پر صدر مملکت کرتا ہے،صوبوں اور مرکز کے درمیان 2011 سے قابل تقسیم وسائل کی تقسیم جاری ہے، موجودہ ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم 82 فیصد آبادی اور 10.3 فیصد غربت کی بنیاد پرکی گئی ہے اور وسائل کی تقسیم پر 5 فیصد اور ایریا کی بنیاد 2.7 فیصد قابل تقسیم وسائل کا فارمولا بنایا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ساتویں ایوارڈ کے تحت صوبوں کو قابل تقسیم وسائل کا 57.5 فیصد اور مرکزی کو 32.5 فیصد ملنا ہے۔

    Federal Government News in Urdu.Pakistani News in Urdu.What is NFC Award ? | CSS | PMS | Current Affairs | PAKISTAN.

  • عون چوہدری کے خلاف انتخابی عذرداری فیصلہ، فریقین سے جواب و دستاویزات طلب

    عون چوہدری کے خلاف انتخابی عذرداری فیصلہ، فریقین سے جواب و دستاویزات طلب

     لاہور: لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی عون چوہدری کے خلاف دائر انتخابی عذرداری کے فیصلے میں فریقین تحریری جواب اور دستاویزات کے علاوہ پرائیویٹ فریق کو اوریجنل فارم 45 اور 46 جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

    الیکشن ٹربیونل نے عون چوہدری کے خلاف دائر انتخابی عذرداری کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا اور فریقین سے تحریری جواب اور دستاویزات طلب کر لیں۔

    فی تولہ سونے کی قیمت میں 1600 روپے کا بڑا اضافہ

    ٹربینول نے فیصلے میں کہا کہ پرائیویٹ فریق فارم 45 اور 46 کی اصل دستاویزات جمع کروائیں جو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے جاری کیے ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن فارم 45، 46 اور 47 کی مصدقہ نقول اور نتائج کے حوالے سے بیان حلفی جمع کروائیں جو ریٹرنگ افسران نے ای ایم ایس پر اپ لوڈ کیے تھے۔

    فیصلے میں عدالت نے حکم دیا ہے کہ سرکاری وکیل ٹربیونل کے احکامات یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں۔

    Aoun Chaudh in Urdu.Pakistani News is Urdu.Election 2024 Results | Aun Chaudhry Victory | Khalil ur Rehman Qamar Aggressive Reaction.

  • فی تولہ سونے کی قیمت میں 1600 روپے کا بڑا اضافہ

    فی تولہ سونے کی قیمت میں 1600 روپے کا بڑا اضافہ

      کراچی: عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافے کے باعث مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے دوران سونے کی فی اونس قیمت میں 28 ڈالر کا اضافہ ہوا جس کے بعد قیمت 2363 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئی۔

    ہم نے مذاکرات کیے تو ن لیگ کی حکومت چلی جائے گی، عمران خان

    عالمی مارکیٹ میں اضافے کے باعث مقامی صرافہ بازاروں میں جمعے کے روز فی تولہ سونے کی قیمت 1600 روپے اضافے سے 2 لاکھ 42 ہزار 900 پر پہنچ گئی۔

    اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت 1372 روپے اضافے سے 2 لاکھ 8 ہزار 248 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔

    Today Gold Price by Rs 1600 Per Tola.Pkistani News in Urdu.Gold Prices Increased Again In Pakistan | Gold Rate 2024 | Gold Latest Updates | Breaking News.